خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 613 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 613

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۳ خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۷۴ء Leftist بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔چیئر مین ماؤزے تنگ ایک بہت بڑے ملک کے ایک عظیم رہنما ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں فراست دی ہے اور جہاں تک میں نے پڑھا ہے میں سمجھتا ہوں انہوں نے انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے لیکن وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان نہیں رکھتے البتہ اخلاقی قدروں پر ایمان رکھتے ہیں۔انہوں نے بڑے زور سے لکھا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھے ہوئے نوجوان پوری طرح با اخلاق ہونے چاہئیں اور انہی اخلاق کا نام لیا ہے جو اسلام نے ہمیں بتائے ہیں۔وہ خدا کو نہیں مانتے لیکن یہ اخلاقی تعلیم دیتے ہیں کہ دیکھو! کبھی کبر اور غرور تم میں پیدا نہ ہو۔ان کا یہ فقرہ جو دراصل اسلام کا فقرہ ہے اور اسلام کی تفسیر کرنے والے حضرت مہدی علیہ السلام کا فقرہ ہے، فرشتوں نے چیئر مین ماؤ کو سکھا دیا ہوگا۔چنانچہ انہوں نے اسی ضمن میں یہ بھی کہا ہے ” تمہارے سر ہمیشہ زمین کی طرف جھکے رہیں یہ چیئر مین ماؤزے تنگ کے الفاظ ہیں۔ان کی ایک کتاب ہے جس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے جو چیئر مین ماؤ کی تصانیف اور مضامین میں سے بعض لمبے لمبے اقتباسات پر مشتمل ہے۔وہ ایک جگہ لکھتے ہیں :۔"Our Constitution lays it down that citizens of the People's Republic of China enjoy freedom of speech, of the press, assembly, association, procession, demonstration, religious belief۔" کہ ہمارا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں :۔"We cannot abolish religion by adminstative decree or force people not to believe in it۔" ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ مذہب دل کا معاملہ ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا جو ظاہری اور مادی طاقت ہے وہ دل کو تبدیل نہیں کر سکتی زبان کو تو مجبور کر سکتی ہے مگر دل کو مجبور نہیں کر سکتی۔اس حقیقت کو انہوں نے سمجھا اور ان الفاظ میں اس کا اظہار کیا