خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 43
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۳ خطبہ جمعہ 9 فروری ۱۹۷۳ء اور ۱۹۵۳ء میں حالات ایسے تھے کہ اگر کوئی احمدی اس وقت یہ کہتا کہ ظاہری حالات ایسے ہیں کہ ہم بچ جائیں گے تو ہم سمجھتے کہ اس کے دماغ پر اثر ہو گیا ہے کیونکہ ظاہری حالات ایسے نہیں تھے لیکن باطنی حالات ایسے تھے یعنی الہی تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ جو انسان کو صرف دنیا کی آنکھ رکھنے والے انسان کو نظر نہیں آتا وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہمارا بال بھی بیکا نہیں ہوسکتا۔۱۹۵۳ء میں اتنا ہنگامہ تھا کہ گویا ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔اب اس پر بہت لمبا عرصہ گذر گیا یعنی ہیں سال کے قریب گویا آج سے دس سال پہلے جو بچہ پیدا ہوا تھا اور آج دس سال کا ہے یا اُس وقت جماعت میں جو بچی پیدا ہوئے تھے اور اب وہ میں اکیس سال کے جوان ہیں ان کو تو اِن حالات کا پتہ نہیں اور نہ وہ سمجھ سکتے ہیں لیکن ان ہنگاموں کا نتیجہ یہی نکلا کہ ۱۹۵۳ء کے بعد جماعت ہر لحاظ سے سینکڑوں گنا زیادہ ہوگئی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے حالات ہیں۔واقعات وقت گذرنے کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ وقت تو چل رہا ہے ٹھہرا ہوا نہیں اور تاریخ کا جاننا اور خصوصاً اپنی تاریخ کا جاننا ہم سب کے لئے ضروری ہے کیونکہ کسی انسان یا کسی جماعت کی زندگی اپنے ماضی سے کلیہ منقطع نہیں ہوتی۔مجھے یہ احساس ہے کہ بہت سے احمدی گھروں میں سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے واقعات دہرائے نہیں جاتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بعض جگہ خود ان واقعات کی تصویر کھینچی ہے۔ان واقعات کو بچوں کے سامنے دہرانا چاہیے۔جماعت کی مخالفت میں دنیا کو اسی سال ہو گئے ہیں اور جماعت کو اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے اسی سال ہو گئے ہیں اور ان کوششوں کو بھی اسی سال ہو گئے ہیں جو جماعت کو مٹانے میں لگی ہوئی ہیں اور ان ناکامیوں کو بھی اتنی سال ہو گئے ہیں جو ہر روز ان مخالفانہ حرکتوں کے نصیب میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ہماری یہ ایک معمور تاریخ ایک کامیاب تاریخ ہے۔یہ نہیں ہے کہ آج میں نے یا جماعت کے کسی اور صاحب نے کھڑے ہو کر یہ باتیں بتادیں بلکہ دنیا نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کی قدرت کے نظارے دیکھے ہیں اور خدائی طاقتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے اور مشاہدہ کر رہی ہے۔وہ جوا کیلا تھا اور کوئی