خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 609 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 609

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء اکثریت پھر بھی ان کو مسلمان سمجھتی ہے۔گویا انہوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کے فتوے غیر مؤثر ثابت ہوئے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ اگر ساری دنیا کے علماء کے فتوؤں کے باوجود پاکستان کی بھاری اکثریت احمدیوں کو مسلمان سمجھتی ہے تو پھر جو آپ قانون بنائیں گے اور ایک اور فتویٰ صادر کریں گے اس کی ایک فتوے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ماضی کے بے شمار فتاوی پر ایک فتویٰ اور زائد ہو جانے سے مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہمیں غیر مسلم کیسے سمجھنے لگ جائے گی۔ہم نمازیں پڑھ رہے ہوں گے ایک مسلمان کی طرح ہمارے گھروں سے قرآن مجید کی تلاوت کی آوازیں باہر پہنچ رہی ہوں گی اور وہ سن رہے ہوں گے اور ہماری زندگیوں میں وہ اس کوشش کو دیکھ رہے ہوں گے کہ اسلام کے مطابق انہیں ڈھالا جائے، دنیا میں تبلیغ اسلام کے کارنامے ان کے کانوں میں پڑیں گے تو وہ تمہارے ایک اور فتوی کی زیادتی سے ہمیں کافر کیسے سمجھنے لگ جائیں گے۔اس پر وہ سوچ میں پڑ گئے اور کہنے لگے بات تو ٹھیک کہتے ہو۔پس ساری دنیا کے علمائے ظاہر جو ہمیں کا فرقرار دے چکے ہیں، ان کو یہ فکر کیوں لاحق ہوئی کہ ساری دنیا ہمیں اب بھی مسلمان سمجھتی ہے یا تو وہ یہ اعلان کریں کہ ہمارے سارے فتوے غیر مؤثر اور نا کام ہیں اور ہم یہ اعلان کریں گے کہ حکومت کا کوئی فتوی قانونی حیثیت نہیں رکھتا دنیا کا جو قانون ہے اور ہمارے ملک کا جو دستور ہے وہ تو اس قسم کے مسئلہ پر غور کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ملکی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ، بین الاقوامی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔بہر حال ایک تو یہ لوگ اس وجہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت قانون بنائے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے فتاوی ناکام ہو گئے ہیں، ان کا کوئی اثر پیدا نہیں ہوا۔دنیا احمدیوں کو اب بھی مسلمان سمجھتی ہے۔دوسری وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اگر حکومت کا فتویٰ نہ ہو اور صرف علمائے ظاہر کا فتویٰ ہو تو جیسا کہ جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان فتاویٰ کو دیکھ کر تو ہر فرقہ کا فر ٹھہرتا ہے مثلاً ہمارے وہ بھائی جن کو لوگ وہابی کہتے ہیں یعنی امام محمد بن عبدالوہاب کے متبعین ( بعد میں آنیوالوں نے ان کی تعلیم کی پرواہ نہیں کی اور ان کی تعلیم کے مطابق بدعات سے پاک معاشرہ قائم نہیں کیا ) بہر حال جو لوگ امام محمد بن عبدالوہاب کی اتباع کرنے والے ہیں