خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 604
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۰۴ خطبہ جمعہ ۲۱ جون ۱۹۷۴ء ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پیاری ہیں مثلاً کہا خدا تعالیٰ متوکلین سے پیار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ صبر کرنے والوں سے پیار کرتا ہے یا مثلاً یہ کہا کہ خدا تعالیٰ متقیوں سے پیار کرتا ہے۔میں اس وقت ظلم کے متعلق یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تو فر مایا کہ وہ ظالم سے پیار نہیں کرتا مگر یہ نہیں فرمایا کہ اس کے پیار کے حصول کے لئے محض مظلوم بن جانا کافی ہے بلکہ جو شخص مظلوم بھی ہے اور اس کے اندر دوسری صفات بھی ( جواللہ کو پیاری ہیں ) پائی جاتی ہیں مثلاً وہ متقی ہے، وہ صابر ہے، وہ متوکل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے والا ہے وہ آزمائشوں اور امتحانوں اور ابتلاؤں کے وقت ثبات قدم دکھاتا ہے اور وفا کی راہوں کو نہیں چھوڑتا۔وہ خدا تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دامن پر اس کی گرفت کبھی ڈھیلی نہیں پڑتی اللہ اس سے پیار کرتا ہے۔پس قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ظالموں سے بہر حال پیار نہیں کرتا اور قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ ایسے مظلوم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک ہوتے چلے آئے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں ڈھالا کہ خدا تعالیٰ نے ان سے پیار کیا۔پھر قرآنِ کریم یہ بھی کہتا ہے کہ تمہیں آزمایا جائے گا تمہارے لئے خوف کے آثار، خوف کے حالات پیدا کئے جائیں گے اور تمہارا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ایسی تدابیر کی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والوں، اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے والوں، اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے اسلام، قرآنِ عظیم اور حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے والوں کی آزمائش کی جائے گی اور ایسی تدابیر کی جائیں گی کہ ان کو کھانے پینے کو کچھ نہ ملے۔پچھلے دنوں جو حالات گزرے ہیں وہ بڑے تکلیف دہ ہیں مگر اب یہ بھی رپورٹیں آرہی ہیں کہ جہاں دیکھا کہ کمزور اور تعداد میں کم احمدی ہیں تو کہا ان کا بائیکاٹ کر دو، ان کو کھانے کو کچھ نہ دو، ان کو پانی نہ لینے دو ( دکانوں سے سودا سلف خرید نے اور ماشکیوں کو پانی بھرنے سے منع کر دیا گیا وغیرہ ) ہمیں اس لئے گھبراہٹ نہیں کہ جُوع ( بھوک ) کے سامان پیدا کئے گئے ہیں اس کی خبر تو قرآن عظیم نے ہمیں پہلے سے دی ہوئی ہے جو گھبراہٹ ہے اس کا میں آگے ذکر کروں گا۔اسی