خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 598 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 598

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۹۸ خطبہ جمعہ ۱۴ /جون ۱۹۷۴ء حصول کے لئے اور اپنے پیار کو پانے کے لئے جو طاقتیں عطا کی ہیں وہ ہمیشہ اس رنگ میں حرکت میں آئیں کہ ہم روحانی رفعتوں کو حاصل کرنے والے ہوں اور تیرے پیار کو پانے والے ہوں۔پس انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اگر وہ خود کو انسان سمجھتا ہے اور عبد سمجھتا ہے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کے لئے اسے پیدا کیا ہے اور بلندیوں کے لئے اس کی خلق کی گئی ہے تو استغفار اس کو اٹھتے بیٹھتے کرنی چاہیے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر وہ قوت اور وہ استعداد جو رفعتوں کی طرف لے جانے والی ہے، بوجہ صاحب اختیار ہونے کے وہ ہماری کمزوری بن گئی ہے۔پس مغفرت کے معنے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ اپنے فضل سے ہماری بشری کمزوریوں کو ڈھانپ لے۔وہ ہماری فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے۔ہم پر رحم فرمائے اور ہمیں یہ توفیق بخشے کہ صاحب اختیار ہونے کے باوجود ہم اپنی طاقتوں کو الہی منشا کے مطابق ہمیشہ رفعتوں کے حصول کی راہوں پر لگانے والے ہوں ہم اس کے قرب میں بڑھتے چلے جائیں۔ہمیں ہر روز پہلے سے زیادہ پیار ملے اور ہم کبھی بھی غافل ہو کر کبھی بھی ست ہو کر کبھی بھی لا پرواہ ہو کر، کبھی بھی بے احتیاط ہو کر کبھی بھی بھول کر اور کبھی بھی جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہوں کہ یہ طاقتیں رفعتوں کے حصول کے لئے ہیں تنزل کی طرف لے جانے کے لئے نہیں دی گئیں۔غرض خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! تو نے ہمیں اختیار دیا لیکن ہم تجھ سے یہ طاقت مانگتے ہیں کہ تو اپنی مغفرت کی چادر میں ہمیں ڈھانپ لے اور ہمیں تو فیق عطا کر کہ وہ تمام قو تیں جو تو نے ہمیں اس لئے عطا کی تھیں کہ ان پر تیرے اخلاق اور تیری صفات کا رنگ چڑھے۔تیرے نور کی چادر میں وہ لیٹی رہیں اور اس طرح ہر طاقت تیری کسی نہ کسی صفت کی پناہ میں آجائے اور ہر طاقت جو تو نے ہمیں دی ہے، وہ ہماری رفعتوں کے سامان پیدا کرنے والی ہو ہمیں آسمان پر لے جا کر وہاں سے زمین پر گرانے والی نہ ہو کیونکہ جتنی بلندی پر کوئی جاتا ہے اتنا ہی اس کے لئے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اگر گرے گا تو اس کی ہڈیاں بھی قیمے کی طرح پس جائیں گی اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی جو آدمی دوفٹ سے گرتا ہے اس کے لئے اتنا خطرہ نہیں ہوتا جتنا