خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 578
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۸ خطبہ جمعہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء اس کے نیک اعمال ، وہ اعمال جن کے اچھے نتیجے نکلتے ہیں۔جن اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا پہلے سے زیادہ حاصل ہوتی رہتی ہے اُن اعمال میں کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا ہر دوسرا جلوہ پہلے سے بڑھ کر حسین ، پہلے سے زیادہ عظیم ان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔پس ہمارے مقام کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ہمیں سختی سے اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ گالیوں کا جواب دعاؤں سے دینا اور جب کسی کی طرف سے دکھ دیا جائے تو اس کا جواب اس رنگ میں ہو کہ اس کے لئے سکھ کا سامان پیدا کیا جائے۔اسی لئے پچھلے جمعہ کے موقع پر بھی میں نے ایک رنگ میں جماعت کو خصوصاً جماعت کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ یہ تمہارا مقام ہے اسے سمجھو اور کسی کے لئے دکھ کا باعث نہ بنو اور دنگا فساد میں شامل نہ ہو اور جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے تسکین کا بھی باعث ہے، ترقیات کا بھی باعث ہے۔وہ ہے صبر اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات گزارنا۔صبر اور دعا کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات گزار و مگر اہلِ ربوہ میں سے چند ایک نے اس نصیحت کو غور سے سنا نہیں اور اس پر عمل نہیں کیا اور جو فساد کے حالات جان بوجھ کر اور جیسا کہ قرائن بتاتے ہیں بڑی سوچی سمجھی سکیم اور منصوبہ کے ماتحت بنائے گئے تھے اس کو سمجھے بغیر جوش میں آکر وہ فساد کی کیفیت جس کے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مخالفت کی اس تدبیر کو کا میاب بنانے میں حصہ دار بن گئے اور فساد کا موجب ہوئے۔۲۹ مئی کو اسٹیشن پر یہ واقعہ ہوا۔اس وقت اس واقعہ کی دو شکلیں دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ایک وہ جو انتہائی غلط اور باطل شکل ہے مثلاً ایک روز نامہ نے لکھا کہ پانچ ہزار نے حملہ کر دیا۔مثلاً یہ کہ (احمدیوں کی طرف سے۔ناقل ) سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت ایسا کیا گیا۔وغیرہ وغیرہ۔یہ بالکل غلط ہے اس میں شک نہیں لیکن دوسری شکل یہ ہے کہ کچھ آدمیوں نے بہر حال اپنے مقام سے گرکر اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کو چھوڑتے ہوئے فساد کا جو منصو بہ دشمنوں کی طرف سے بنایا گیا تھا اسے کامیاب کرنے میں شامل ہو گئے۔اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور چونکہ ایسا ہوا اور اگر دشمن کو آپ کے دس آدمی ایک ہزار نظر آتے ہیں تو اس سے آپ کی برات نہیں ہوتی یہ تو