خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 562
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۲ خطبہ جمعہ ۱۷ رمئی ۱۹۷۴ء جو آخری مقصد ہے یعنی تمام اقوام عالم کو امت واحدہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کیا جانا اور ہر قوم اور ہر ملک کے لئے ایسے حالات پیدا کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار سے اسی طرح حصہ لے رہا ہو جس طرح کوئی اور ملک یا کوئی اور قوم حصہ لے رہی ہے۔یہ کام اب جماعت احمدیہ کے سپر دہوا ہے جو مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے۔یہ کام اتنا عظیم ہے اور یہ بوجھ اتنا بھاری ہے کہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ کے کسی اور گروہ پر اس قدر عظیم اور اس قدر وزنی اور اس قدر اہم ذمہ داری نہیں پڑی۔مگر اس عظیم ذمہ داری کے ساتھ بہت بڑی بشارتیں بھی دی گئی ہیں جنہیں سُن کر آج ہمارے وہ احمدی دوست بھی جنہوں نے تھوڑی بہت تربیت حاصل کر لی ہے اُن کے دماغ بھی شاید انہیں قبول نہ کریں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا تھا کہ کسریٰ اور قیصر مغلوب ہوں گے۔آپ کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کشف میں رشیا (Russia) ( جو اس وقت دنیا کی طاقتور حکومتوں اور ملکوں میں سے ایک ہے اس میں ریت کے ذروں کی طرح احمدی دکھائے گئے ہیں اسی طرح مغربی اقوام ( جو بہت طاقتور حکومتیں ہیں ) جو کسی زمانہ میں سفید فام قو میں کہلاتی تھیں ان کے کثرت کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔حالات میں ایک نئی تبدیلی ہو چکی وہ یہ کہ خود مسلمان کہلانے والے بھی مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت میں غفلت برت رہے تھے اور یہ بھی اُمت محمدیہ کے اندر ایک بہت بڑا فتنہ تھا کہ مہدی آگئے لیکن جن کو شناخت کرنا چاہیے تھا انہوں نے شناخت نہیں کیا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک اور کشف بھی دکھایا گیا کہ مکہ میں احمدی ہی احمدی پھر رہے ہیں اس لئے اگر آج مکہ سے ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ جاری ہو جائے تو اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔یہ ایک عارضی حالت ہے لیکن جو ہمیشہ رہنے والی صداقت ہے وہ یہ ہے کہ مکہ و مدینہ پر اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور وہ مہدی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کریں گے اور اس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر اپنی ہر چیز کو قربان کر دیں گے اور دنیا میں