خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 550
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۷۴ء ہے یہ ایک چھوٹی سی جماعت۔اپنی سی کوشش کر کے ہر ایک کے ساتھ ایک تعلق پیدا کرنا چاہیے۔سائیکل سواروں کو میں نے کہا ہر گاؤں میں جاؤ ان کے حالات معلوم کرو کیونکہ ہر گاؤں کے تم خادم ہو۔سرگودھا اُس وقت آگے نکلا اور سرگودھا نے قریباً ہر گاؤں سے ملاپ کیا اور ان کی ضروریات اور دکھ کے متعلق رپورٹیں دیں۔اسی طرح وقف عارضی ہے۔واقفینِ عارضی بھی ایک پہلو سے بعض باتوں میں خدمت کے لئے باہر نکلتے ہیں۔اب اس کے دو بازو بن گئے ہیں ایک وہ جو عام ذرائع سفر کو اختیا ر کر کے بسوں میں یا گاڑی کے ذریعہ سفر کر کے اپنے اپنے مقامات تک جاتے ہیں جو ان کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور کم از کم چودہ دن وہاں رہتے ہیں اور جب’سائیکل سوار واقفین“ کی تحریک کی گئی تو دوسرا باز و بن گیا۔میں نے کہا تھا کہ سائیکل سوار واقفین عارضی بھی چاہئیں کیونکہ وہ زیادہ وسیع علاقہ اور دائرہ میں کام کر سکتے ہیں۔میں نے کچھ عرصہ سے اس کی تحریک نہیں کی تھی اب یاد کراتا ہوں (ویسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی ہزار احمدیوں نے اس عرصہ میں کام کیا ہے ) لیکن ہمارا قدم آگے بڑھنا چاہیے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔میں اپنے پیارے احباب جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کام کے لئے آگے آئیں۔اب چھٹیوں کے دن آرہے ہیں۔ہماری قوم کا ایک حصہ اور اُسی نسبت سے جماعت کا ایک حصہ ایسا ہو گا جن کو چھٹیاں ملیں گی۔جو چھٹیوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیں وہ وقف کریں اور وقف عارضی کے منصوبہ کے ماتحت مختلف علاقوں میں جائیں یا سال کے دوسرے اوقات میں جائیں۔زمینداروں کے بعض دوسرے اوقات نسبتاً خالی ہوتے ہیں اور مصروفیت بڑھ جاتی ہے تو زمینداروں کے لئے نسبتاً جو سہولت کے دن ہیں اُن میں وہ یہ کام کریں تا کہ دُنیاوی سہولت سے فائدہ اُٹھا کر اُخروی سہولت کے سامان اپنے لئے اور اپنے عزیزوں کے لئے وہ پیدا کر سکیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔میری بیماری مختلف عوارض کی وجہ سے کچھ لمبی ہو گئی ہے اور اب وہ دن آگئے جو گرمی کے ہیں۔گرمی میری مستقل بیماری ہے۔کل شام کو میں اپنے خدام واطفال سے ملنے چلا گیا تھا۔اس کے بعد مجھے تکلیف ہوگئی۔کچھ عرصہ سے یہاں آپ کے سامنے خطبہ نہیں دے سکا تھا اس لئے