خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 546
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۶ خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۷۴ء نے اپنے نور کے کچھ دروازے ان پر بند کر دیئے اور ایک لمبے ابتلا کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ وہ قیدی واپس آگئے۔ان گھروں میں ایک نور چمکا وہ غمگین احساس جو لمبا عرصہ روشنی کا منتظر تھا اُسے تسکین پہنچی اور انہیں اس لحاظ سے بھی خوشیوں کے دن دوبارہ ملے۔ویسے تو اللہ تعالیٰ انسان کی خوشی کے ہزاروں سامان پیدا کرتا ہے لیکن یہ خوشی جو اپنے عزیزوں کی جدائی کی وجہ سے چھینی گئی تھی۔یہ روشنی ، یہ چہروں کی بشاشت یہ احساسات کی تسکین جس سے وہ محروم تھے۔وہ حالات بہتری کے اور نور کے اور بشاشتوں کے اور چہروں کی مسکراہٹوں کے دوبارہ پیدا ہوئے۔اس کے لئے سارا پاکستان آج اپنے اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گا رہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ذات وصفات کا عرفان اُس سے زیادہ بخشا ہے جو کسی اور جماعت کو ملا ہوا ہمیں نظر آتا ہے۔ہمارے حمد کے جذبات اور شکر کے احساسات شاید مختلف ہوں لیکن حمد اور شکر کے جذبات آج اہلِ پاکستان کے ہر گھر میں پائے جاتے ہیں اور اپنے اپنے رنگ میں سب نے اللہ تعالیٰ کی حمد بھی کرنی ہے۔اُس کا شکر بھی ادا کرنا ہے اور جب ہم سوچتے ہیں تو ایک سبق بھی ہمیں ملتا ہے کہ یہ جو دنیا کی خوشیاں ہیں اس میں تو اللہ تعالیٰ مومن و کافر میں فرق نہیں کرتا جیسا کہ قرآن کریم میں وضاحت سے بیان ہوا ہے۔رَبُّ الْعَلَمِینَ اپنی مخلوق میں سے مومن کے لئے بھی تسکین اور خوشیوں اور ظاہری و مادی ودنیاوی روشنیوں کے اور نور کے سامان پیدا کرتا ہے۔وہ سامان مومن کے لئے بھی ہوتے ہیں۔مومن اور کافر میں فرق دُنیا کے نور یا دنیا کی تسکین یا دنیا کی بشاشتوں کا نہیں، فرق تو دین اور دنیا کا ہے۔فرق تو اس دنیا کی اُن بشاشتوں کا ہے جو یہیں ختم ہو جاتی ہیں اور فرق اس دنیا کی اُن بشاشتوں کا ہے جو ابد الآباد اور نہ ختم ہونے والے زمانہ پر پھیلتی چلی جاتی ہیں۔یہ فرق ہے جو مومن اور کافر میں ما بہ الامتیاز اور ایک فرقان پیدا کرتا ہے لیکن جہاں تک دنیا کی تسکین اور دُنیاوی زندگی کے آرام کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں کافروں کو بھی دیتا ہوں اور بعض حالات میں مومنوں سے زیادہ ان کو مل جاتا ہے