خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 541 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 541

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۱ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء دو کروڑ سال تو کیا ان گنت سالوں تک خدا تعالیٰ کی مخلوق کے خواص معلوم ہوتے رہیں گے۔اشیاء میں آج جو خواص پائے جاتے ہیں وہ محدود بھی ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے نئے سے نئے جلوے ظاہر ہوتے رہتے ہیں یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ہمیشہ نئی سے نئی مخلوق خدا کے بندوں کی خدمت کے لئے تیار ہوتی رہتی ہے۔پس اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے اور اس بات کو اچھی طرح بتا کر ذہنوں میں بٹھایا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اس سے فائدہ حاصل کرنا انسان کی اپنی کوشش پر منحصر ہے۔کوشش کے ساتھ ساتھ اسلام نے دعا کرنے پر بھی زور دیا اور یہ دعا سکھا دی رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقره: ٢٠٢) اس دعا میں صرف یہی نہیں کہا کہ اتِنَا فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ بلکہ آخرت کی بھلائی کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی چاہنے کی بھی دعا سکھلا دی۔ظاہر ہے دنیا کی حسنات ہم نے دنیوی مخلوقات سے حاصل کرنی ہیں۔انہی سے فائدہ اٹھا کر اپنی آخرت سنوارنی ہے۔اس لئے اسلام نے یہ اعلان کیا کہ مذہب افیون نہیں ہے۔وہ شخص بڑا بیوقوف ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہب اسلام بھی افیون کا کام دیتا ہے۔اسلام نے تو یہ کہا ہے کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور انسان کی خدمت پر لگا رکھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم :۴۰) کی رُو سے انسان کو اتنا فائدہ ملے گا جتناوہ اس کے لئے کوشش کرے گا۔تب سعیه سَوْفَ يُرى (النجم : ۴۱) کی رو سے اور عام قانون کے مطابق کوشش نتیجہ خیز ہوگی۔انسان کو محنت کا پھل مل جائے گا ایک شخص مثلاً ہزار یونٹ کوشش کرتا ہے اس کو ہزار یونٹ کا پھل مل جاتا ہے۔میں عام تقدیر کے مطابق بات کر رہا ہوں جو اس دنیا میں کارفرما ہے خاص تقدیریں جن کو ہم معجزات کہتے ہیں اُن کے متعلق میں بات نہیں کر رہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ افیون کھا کر سو نہ جانا اور تقدیر کا یہ مطلب نہ لینا کہ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر تم نے اپنی جھولیاں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق سے فائدہ اُٹھا کر بھرنی ہیں تو تمہاری جھولیاں تبھی بھریں گی جب تم اس کے لئے محنت ، کوشش اور مجاہدہ کرو گے۔محنت نہیں کرو گے تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔پس یہ مذہب جو اتنی عظیم اور حسین تعلیم دیتا ہے وہ افیون کیسے بن گیا۔یہ تو ہمیں ہر آن خدا