خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 36

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۶ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) پر دیئے تھے۔میں نے ان خطبات میں بھی قرآنِ کریم کے بارہ میں اس قسم کے توہمات اور غلط باتوں اور ان کے ازالہ کی طرف توجہ دلائی تھی مگر آج تو میں روز نامہ مشرق کی یہ خبر پڑھ کر سخت پریشان ہوا ہوں۔قرآن کریم ہماری جان ہے اس لئے یہ کہنا کہ ایک مسلمان اپنی جان کو چھوڑ سکتا ہے درست نہیں اس طرح وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر مسلمان نے انفرادی اور اجتماعی ہر دور نگ میں زندگی کو حاصل کرنا ہے یعنی اس نے زندہ رہنا اور باقی رہنا اور ترقیات حاصل کرنی ہیں تو اسے قرآن کریم کو اپنی زندگی کی روح رواں بنانا پڑے گا بلکہ میں تو کہتا ہوں قرآنِ کریم کی روح اس کی بھی روح ہے اس کی زندگی اور اس کے جسم کی حرارت ہے اس کے دل کا چین ہے اور اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس عظمت اور ان خوبیوں کے مالک قرآن کریم کو تم کیسے دُور کر دو گے یا اس کی آیات کو کتابوں سے کیسے الگ کر دو گے۔پس جیسا کہ میں نے مختصر آبتایا ہے یہ بات بظاہر نا معقول بھی ہے اور ہوسکتا ہے ” مشرق نے اسے جن الفاظ میں پیش کیا ہے وہ اصل حقیقت پر مبنی نہ ہوں۔اس وقت میں نے اس اگر کے ساتھ کچھ اظہار خیال کیا ہے کیونکہ میں آج کے دن آج کی اس خبر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا تھا۔ہم اس مسودہ کے اصل الفاظ منگوانے کی کوشش کریں گے اس وقت تک ہم اس کے متعلق مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔اس بارہ میں غصہ کرنے کی بات نہیں نہ خفگی کی ضرورت ہے اور نہ ہی طیش میں آنے کی ضرورت ہے قرآن کریم کے متعلق یہ بات ہو رہی ہے جو خود پیار کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس نے کبھی ختم نہیں ہونا یہ پیار ہی ہے جس سے اس نے دنیا کو رام کیا اور اسلام کی صداقتوں کا قائل کیا اور لوگوں کے دلوں کو جیت لیا۔آئندہ جیتے گا۔اس کام کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اس لئے ایسے موقع پر پیار کے ساتھ سمجھانا ضروری ہے پس غصہ کے اظہار کے بغیر آپ اُسے بڑے پیار سے لکھیں کہ غفلت سے یا لاعلمی کے نتیجہ میں آپ سے یہ غلطی ہو گئی ہے اس قسم کا بل پیش نہیں ہونا چاہیے یہ ہمارے دلوں کو دکھانے والا مسودہ ہے اس کو واپس لے لینا چاہیے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ سب کو سمجھ عطا فرمائے اور اس قسم کی باتوں سے بچنے کی توفیق بخشے۔اصل مسودہ کے الفاظ منگوا کر اگر ضرورت سمجھی تو میں انشاء اللہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالوں