خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 525 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 525

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۵ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء کہ زمین کی شکل کیسی ہے اور جتنے فٹ اونچا ہمیں اٹھانا پڑے اٹھانا چاہیے تا کہ میٹھا پانی اُس محلہ کے غربی کنارے تک ہم پہنچاسکیں اس میں بھی پوری تیز رفتاری اور مستعدی کے ساتھ کام نہیں ہوا کچھ کام تو ہوا ہے لیکن میری تسلی کے مطابق نہیں ہوا۔پھر یہ ہے کہ نیا سال آ رہا ہے اس لئے نئی سکیم ہمارے سامنے آنی چاہیے۔اگر اور ضرورتیں ربوہ میں کسی جگہ بجلی کے کنوئیں لگانے کی ہیں تو وہ ابھی سے ہمارے علم میں آنی چائیں تا کہ اگلے سال میں ہم وہ ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کریں۔کنوئیں کی سکیم کے ساتھ بہت سے درخت لگائے گئے تھے۔کچھ تو بڑے اچھے پل رہے ہیں اور کچھ مر گئے اور جب درخت لگائے جاتے ہیں تو ان میں سے پلتے بھی ہیں اور کچھ مرتے بھی ہیں۔یہ قانونِ قدرت ہے کہ کچھ زندہ رہتے ہیں کچھ مرتے ہیں۔قانونِ قدرت کا ایک پہلو یہ ہے کہ عام طور پر جتنے فی صد درخت عام قانون کے مطابق مرتا ہے اس سے زیادہ نہیں مرنا چاہیے اور اس کے لئے کوشش ہونی چاہیے۔جہاں زیادہ مرتا ہے۔وہاں ہمیں کوشش کی کمی نظر آتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ مرجاتا ہے یا پھر بکریاں چر لیتی ہیں ربوہ میں بکریوں کو رہنے کی اجازت صرف اس صورت میں مل سکتی ہے کہ وہ ہمیں گوشت دیں اس شکل میں نہیں مل سکتی کہ ہمارے درختوں کو وہ کھا لیں۔آپ خیال رکھیں سب اہلِ ربوہ کا یہ کام ہے نیز درخت مرجاتے ہیں اس لئے کہ بچہ بعض دفعہ عدم تربیت کے نتیجہ میں شرارت کی وجہ سے بعض دفعہ بے خیالی میں مثلاً سکول سے گھر آتے ہوئے بے خیالی میں کسی پودے کو پکڑ کر جھٹکے سے کھینچتا ہے اور بعض دفعہ پودا اس کے ہاتھ میں آجاتا ہے یا اس طرح پر اُسے تکلیف اور صدمہ پہنچتا ہے کہ اس کے لئے پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھنا ممکن نہیں رہتا یا چند دنوں کے بعد وہ مرجائے گا۔پس ہمارے بچوں کی یہ تربیت ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے درخت ہمارے لئے پیدا کئے ہیں اور درختوں کے سائے سے اور ان کے پھلوں سے فائدہ اُٹھانا ہمارا کام ہے اس وقت اگر چہ موسم نہیں لیکن کوشش کر کے ہم اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں مسلمانوں کی تو ذہنی حالت یہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔مغلیہ دور کے بادشاہ جنہوں نے ہندوستان پر حکومت کی تھی ان میں بہت