خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 517
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۷ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکتے اس لئے بند باندھنے کی بھی ضرورت ہے۔اب ایک نیا روحانی بند بن رہا ہے۔ہم نے پہلے جو روحانی بند باندھے تھے ہم اُن سے رُوحانی فیض حاصل کر رہے ہیں۔اس وقت تحریک جدید بھی بڑا کام کر رہی ہے۔وقف جدید اور فضل عمر فاؤنڈیشن بھی اپنے اپنے رنگ میں بڑا کام کر رہی ہے مثلاً فضل عمر فاؤنڈیشن نے پہلے جماعت کو ایک لائبریری بنا کر دی تھی۔اب اس کے زیر اہتمام باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے ایک گیسٹ ہاؤس کا ایک بہت بڑا منصوبہ زیر تکمیل ہے۔اس کے پہلے مرحلے پر شاید پانچ سات لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔پھر اس کا ایک دوسرا مرحلہ ہے جو بعد میں تعمیر ہوگا اس پر بھی بہت خرچ آئے گا۔پھر نصرت جہاں ریزروفنڈ کا منصوبہ ہے جس کے تحت کئی ہسپتال بن گئے ہیں۔سکول گھل گئے ہیں۔اس عرصہ میں کئی مخالفانہ روکیں پیدا ہوئیں ہمارے صبر کی آزمائش ہوئی۔پھر ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوا۔بعض متعصب افسروں کی وجہ سے (وہ ملک متعصب نہیں لیکن بیچ میں کوئی بلجیئم کا باشندہ یا بنگال کا متعصب ہند و آجاتا ہے ) ایک جگہ ہمارا ہسپتال نو مہینے تک بند پڑا رہا۔لوگوں نے ہمارے ڈاکٹر کو یہ مشورہ دیا کہ تم اس ملک سے چلے جاؤ۔اس نے مجھے لکھا تو میں نے کہا آرام سے بیٹھے رہو۔یہ مقابلہ ہمارے صبر اور ہمت کا اور اُن کے تعصب کا ہے اُن کا تعصب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہمارا صبر اور ہماری قوت برداشت ہی بالآخر کامیاب ہوگی چنانچہ ہم نے نو مہینے تک ڈاکٹر اور اس کے سٹاف کو فارغ نہیں کیا۔میں نے ہدایت کی تھی کہ سب کو تنخواہیں دیتے چلے جاؤ۔ہمیں خدا تعالیٰ دیتا ہے تو تم بھی لوگوں کو دیتے چلے جاؤ۔اگر متعصب لوگ یہ تماشا دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ کی جماعت کا قدم پیچھے نہیں ہٹا کرتا۔چنانچہ نو مہینے کے بعد اب وہاں کی حکومت نے ہسپتال کی اجازت دے دی ہے۔وہ لوگ ہمارے ہسپتال کی عمارتوں کے متعلق عجیب و غریب شرطیں لگا دیتے ہیں ہم وہ بھی پوری کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خدمت دین کے لئے ہمیں پیسے دیتا ہے ہم خرچ کر دیتے ہیں اور بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہو جاتے ہیں۔بہرحال افریقی ممالک میں بڑی زبر دست حرکت ہے اور یہ نصرت جہاں منصوبے کی