خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 516
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۶ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء حاصل کئے جائیں اور اگر دریا میں پانی ہو اور اس پر بند نہ باندھا جائے تو دریا کے پانی میں تیزی نہیں پیدا ہوتی اس لئے ترقیات کے لئے ہر دو کا وجود آپس میں لازم و ملزوم ہے۔دریا میں عام معمول کے مطابق پانی بھی ہونا چاہیے ورنہ بند کے اندر پانی حسب ضرورت جمع نہیں ہو سکے گا اور اگر بند نہ ہوں تو پانی کا ضیاع ہے مثلاً جہاں ضرورت نہیں یا کم ضرورت ہے وہاں پانی زیادہ پہنچے اور جہاں پانی کی زیادہ ضرورت ہے وہاں پہنچ نہ سکے۔گویا اس کے مختلف فوائد ہیں۔یہی حالت روحانیت کی ہے۔اگر ہم روحانی بند نہ بنائیں تو ہمارے کاموں میں شدت اور تیزی پیدا نہیں ہوگی رفعتوں کی طرف ہماری حرکت میں اگر تیزی پیدا نہیں ہوگی ہماری ترقی کی رفتار بہت ست پڑ جائے گی۔میں نے ابھی تحریک جدید اور نصرت جہاں ریز روفنڈ کی مثالیں دی ہیں۔ہر آدمی کو یہ نظر آرہا ہے کہ ان کی وجہ سے جماعت کی ترقی کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے لیکن اگر عام چندے نہ ہوں تو پھر بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بند میں جمع ہونے کے لئے پانی نہیں جائے گا یعنی بند باندھنے کے باوجود اس میں شدت پیدا نہ ہوگی اس لئے معمول کے مطابق جس طرح دریا میں پانی رہنا چاہیے اسی طرح عام چندوں کی ادائیگی بھی از بس ضروری ہے جس طرح مختلف موسموں میں دریا کا پانی بڑھتا رہتا ہے اسی طرح عام چندوں کو بھی آہستہ آہستہ بڑھتے رہنا چاہیے کیونکہ جماعت احمدیہ کا قیام بتاتا ہے کہ بہار آ گئی ہے۔ہمارے لئے عید کا سماں پیدا ہو گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے عید کی مبارک بادمل گئی ہے۔پس جس طرح سورج کی تمازت بڑھتی ہے تو برف زیادہ پگھلتی ہے اور دریاؤں میں پانی زیادہ آ جاتا ہے اسی طرح ہماری جماعتی زندگی کا یہ سماں متقاضی ہے کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی گرمی جوش مارے تا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ریز روائر کی برف پگھلے اور ہمارے پانی (یعنی مالی قربانی ) میں زیادتی کا موجب بنے اور ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ ہماری اجتماعی فطرت کا تقاضا یہی ہے۔اگر ہم اس میں کمزوری دکھا ئیں یعنی ہماری ترقی تدریجی رنگ میں اور آہستہ آہستہ ہو رہی ہو یعنی چندہ عام، حصہ آمد یا چندہ جلسہ سالانہ کی ادائیگی کی رفتارست ہو تو پھر بند باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اگر بند نہ باندھیں تو عام چندوں