خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 514

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۴ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء مالی قربانی پیش کرنے کی بے مثال تو فیق عطا فرمائی ہے۔پچھلے جتنے بھی بند تھے اُن سے روحانی نہریں نکلیں اور بنجر علاقے سیراب ہوئے اور جماعتِ احمدیہ نے انفرادی اور اجتماعی ہر دورنگ میں روحانی ترقی کی اور اس کے نتیجہ میں اس نئے بند کی تعمیر ممکن ہوئی اور جماعت احمدیہ میں مالی قربانی کی ایک نئی روح پیدا ہوگئی ہے۔نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے وقت بہت سے دوستوں کا یہ خیال تھا کہ شاید میری یہ خواہش پوری نہ ہو سکے گی کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی خلافت کے جتنے سال ہیں اُتنے لاکھ روپے جمع ہو جائیں۔مگر جماعت نے اس فنڈ میں بڑی قربانی دی۔چنانچہ میری خواہش تو ۵۱ لاکھ روپے کی تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے تین سالوں میں قریباً ۵۳ لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔فالحمد لله على ذالك - یہ ان رفعتوں کا نتیجہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں روحانی طور پر بصیرت پیدا ہو گئی قوم کو دور بین نگاہ ملی اور ان کی فراست تیز ہو گئی اور اُن کے ایمان بڑھ گئے اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے سے اُن کے دلوں میں بشاشت پیدا ہوگئی۔چنانچہ دوستوں نے صد سالہ احمد یہ جو بلی منصوبہ میں اب تک قریباً دس کروڑ کے وعدے کر دیئے ہیں۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان کیا تھا کہ نو کروڑ بیس لاکھ روپے کے وعدے آچکے ہیں اور پھر دو گھنٹے کے بعد مجلس مشاورت کے افتتاحی اجلاس میں نو کروڑ چون لاکھ کا اعلان کیا تھا۔میرا خیال ہے اب تک نو کروڑ ستر اسی لاکھ تک وعدے پہنچ چکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے اب کبھی تو یہ حال تھا کہ بڑی تگ و دو کے بعد اور بڑی فکر کے بعد بڑی دعاؤں کے بعد جماعت نے نصرت جہاں ریز روفنڈ میں ۵۳ لاکھ روپے کی مالی قربانی دی لیکن اب ایک نیا بند باندھنے کا منصوبہ خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھا تو جماعت نے بڑی بشاشت کے ساتھ ۵۳ لاکھ کے مقابلے میں قریباً دس کروڑ روپے کی قربانی کے وعدے کر دیئے اور جیسا کہ میں نے مجلس مشاورت پر بھی بتایا تھا دراصل یہ ایک زبر دست تیاری ہے نئی صدی کے استقبال کی۔اس پندرہ سولہ سال کے عرصہ میں ہم نے نئے مشن کھولنے ہیں۔نئی مساجد بنانی ہیں۔قرآن کریم کی کثرت سے اشاعت کرنی ہے کم از کم سوز بانوں میں اسلام کی بنیا دی تعلیم پر مشتمل کتاب شائع