خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 511
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۱ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء بہتا ہے۔پانی پہاڑوں میں سے بہہ کر آتا ہے اور اپنی فطرت کے مطابق نشیب کی طرف بہتا ہے اور مختلف علاقوں میں سے گذرتا اور لوگوں کے لئے تازہ بتازہ پانی کی سہولت پیدا کرتا ہے کنوؤں کے ذریعہ نیز کھانے پینے کے سامان پیدا کرتا ہے فصلوں کے ذریعہ۔غرض پانی نشیب کی طرف جاتا ہے اور یہ حرکت اپنے معمول کے مطابق ہوتی رہتی ہے دریا کے پاس کھڑے ہو کر دیکھیں تو ( طغیانی کے دنوں کے علاوہ) ایسا لگتا ہے کہ پانی ٹھہرا ہوا ہے سوائے تنکے یا درخت کی ٹہنی کے بہنے یا بلبلے اٹھنے کے پانی کی حرکت نظر نہیں آتی۔پانی بالعموم چند میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بہہ رہا ہوتا ہے لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ پانی کتنی رفتار سے بہہ رہا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں نشیب کی طرف حرکت رکھ دی ہے اس لئے جتنا نشیب زیادہ ہو گا اس کی حرکت میں اتنی ہی تیزی آجائے گی۔یہ قانونِ قدرت ہے۔انسان نے پانی کی اس فطرت سے فائدہ اٹھانے کی ترکیب سوچی تو اُسے بند (Dams) باندھنے کا خیال آیا۔”بند میں پانی ایک جگہ دریا کی نسبت زیادہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور پھر ڈیم سے پانی کے نکاس کی طرف انسان نے زیادہ نشیب بنادیا اسے ہم Fall یعنی آبشار کہتے ہیں۔بعض جگہ لوگوں نے کئی سوفٹ بلند پہاڑوں سے پانی نیچے گرایا ہے۔پانی نے چونکہ نشیب کی طرف جانا ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے زور ، اپنی فطرت اور اپنے وزن کے مطابق بڑی تیزی سے زمین کی طرف آتا ہے لیکن چونکہ اس میں روحانیت نہیں ہوتی اس کا یہ خلود انسان کے فائدہ کے لئے ہوتا ہے انسان اس سے بجلی کی طاقت پیدا کرتا ہے جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔اس سے مختلف نہریں نکال کر وہاں تک پانی لے جاتا ہے جہاں تک دریا پانی نہیں پہنچا سکتا تھا۔اسی طرح جب الہی سلسلے قائم ہوتے ہیں تو روحانی طور پر بھی بند باندھنے پڑتے ہیں اور چونکہ فطرت انسانی کی روحانی حرکت بلندی کی طرف ہوتی ہے اس لئے جب یہ بند باندھا جاتا ہے تو جس طرح پانی کئی سوفٹ کی بلندی سے بڑی تیزی کے ساتھ نیچے بہتا ہے اسی طرح روحانی بند کے نتیجہ میں انسان کی روحانی حرکت عام معمول کی نسبت بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بلندی کی طرف محو پرواز ہوتی ہے جس طرح پانی ۳۔۴ سوفٹ کی بلندی سے بڑی تیزی کے ساتھ نیچے بہتا