خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 33
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء درج کرنے کی بجائے اس کا ترجمہ لکھا جائے یعنی قرآنِ کریم کے الفاظ کسی اخبار یا کسی رسالے یا کسی کتاب میں نہ چھاپے جائیں اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔اس سلسلہ میں یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اخبارات وغیرہ میں چھپنے کی وجہ سے قرآنِ کریم کی آیات کی بے حرمتی ہوتی ہے گویا ان کی تحریم کے لئے یہ مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے۔مگر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی تو بڑا ہی مبارک اور قابل صد احترام ہے۔پھر کل یہ بل پیش ہو جائے گا کہ کسی اخبار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک شائع نہ کیا جائے۔یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا بلکہ بڑھتے بڑھتے اس سب سے بزرگ و برتر اور حرمت و احترام اور بزرگی اور نیکی اور نور کے سرچشمہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات تک جا پہنچے گا جس کا قرآن کریم میں جا بجاذ کر آتا ہے۔چنانچہ پھر ایک بل یہ پیش ہو جائے گا کہ کسی اخبار یا رسالے یا مطبوعات میں اللہ تعالیٰ کا نام شائع نہ کیا جائے۔میں یہ تو نہیں کہ سکتا کہ اسلام دشمنی کے نتیجہ میں یہ مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے کیونکہ ہمیں یہ حکم ہے کہ حسن ظن کی راہ کو اختیار کیا جائے۔پس میں یہ الزام نہیں دیتا کہ اسلام کے خلاف جان بوجھ کر یہ حملہ کیا گیا ہے لیکن میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ ذہنیت صرف اس شخص کی ہو سکتی ہے جس کو اسلام کے الف اور باء سے بھی واقفیت نہ ہو۔غرض یہ اسلام دشمنی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اسلام سے ناواقفیت کے نتیجہ میں اور قرآن کریم اور اس کی افادیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ مسودہ پیش کیا گیا ہے۔میر انفس یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اس مسودہ کو اکثریت رڈ کر دے بلکہ میرانفس پاکستانی شہریوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس شخص کو سمجھایا جائے کہ وہ اپنا مسودہ واپس لے لے کیونکہ اس کا اسمبلی میں پیش ہوکر زیر بحث آنا بھی میرے نزدیک قرآن کریم کی بے حرمتی ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر حرمت قرآنِ کریم کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے کہ قرآنِ کریم کی کوئی آیت نہ کسی اخبار میں نہ کسی رسالہ میں اور نہ کسی کتاب میں عربی الفاظ میں لکھی جائے گی اور اسے حرمت قرار دیا جائے گا اور اسے درست سمجھ لیا جائے گا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تمام كتب جو امت محمدیہ میں ہمارے بزرگ اور اولیاء اللہ نے لکھی ہیں جس میں وہ اپنے استدلال کو