خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 486

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۶ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء معرفت اور اس کے جلال کا عرفان بدرجہ کمال موجود ہوتا ہے۔وہ ایک ایسی فطرت ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی محبت پائی جاتی ہے جس کے سامنے دنیا کی ساری محبتیں بیچ ہیں۔پس جس شخص کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا احساس اور اس کی ذاتی محبت پائی جاتی ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوا کرتی اور اللہ تعالیٰ کی یہی عظمت اور یہی جلال ہے جس کی معرفت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس جماعت کا ایک خاصہ ہے اور جو امت محمدیہ ہی کا ایک حصہ ہے اور اس آخری زمانہ میں پیدا ہو کر اور مہدی معہود کے گرد جمع ہو کر ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے پر مامور ہے۔پس اگر کسی فطرت یا کسی جماعت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کا ایک واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس میں خدا کے سوا کسی اور کا خوف نہیں رہتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ مجھ سے ڈرو۔میرے سوا کسی اور سے مت ڈرو۔پس ایک ایسا فرد، ایسی فطرت اور ایسی جماعت جس کی یہ سرشت ہو جس کی یہ طبیعت ہو اور جس کی یہ فطرت ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی اور کا خوف اپنے دل میں پاہی نہیں سکتی کیونکہ اس کا سارا وجود خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات میں گم ہو جاتے ہیں۔اُن کی نگاہ میں دنیا کی ہر چیز بیچ ہوتی ہے وہ ہر چیز کو لاشے محض سمجھتے ہیں۔ظاہر ہے جس دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ہو گی اگر اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف اور اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے دنیا کی ساری طاقتیں ( دینی بھی اور مادی بھی اکٹھی ہو جائیں اور وہ شخص اکیلا ہو تب بھی وہ یہ کہے گا الْجَمْعُ“ تو ہے مگر سَيُهْزَم۔669 چنانچہ اس وقت دنیا یہ نظارہ دیکھ رہی ہے کہ ساری دنیا خدا تعالیٰ کے منصوبہ کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہی دنیا یہ نظارہ بھی دیکھے گی کہ ساری طاقتیں جمع ہو کر ساری دولتیں اکٹھی ہو کر اور باہم منصوبے بنا کر بھی خدا تعالیٰ کی منشا کے خلاف کامیاب نہیں ہوں گی۔دُنیا یہ بھی دیکھے گی کہ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی خالص ذاتی محبت پائی جاتی ہے اور و شخص یاوہ جماعت جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہر خیر کا منبع سمجھتی ہے اور کسی بھلائی کے لئے اللہ کے سوا