خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 475
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۷۵ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جاری کرایا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔بارش کے موسم میں گھروں میں نماز پڑھ لینا اور جمعہ کے لئے جامع مسجد میں نہ آنا اس کی اجازت ہمیں دی گئی ہے لیکن چونکہ میرا خیال تھا کہ بعض دوست اس اجازت سے فائدہ نہیں اُٹھا ئیں گے اور مسجد میں پہنچ جائیں گے اس لئے میں نے سمجھا کہ میں بھی ان میں شامل ہو جاؤں اور یہاں آکر سورج کی مسکراہٹوں سے لطف اندوز بھی ہو رہا ہوں۔اگر میری طرف سے صبح اعلان کر دیا جا تا کہ نماز جمعہ کی بجائے گھروں میں دوست نمازیں پڑھ لیں تو پھر تو اور بات تھی لیکن بہر حال جیسا کہ میرا خیال تھا کافی دوست یہاں موجود ہیں۔جب بھی اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے خشیت اللہ رکھنے والی نگاہ اُس میں امتحان اور آزمائش کا پہلو بھی دیکھتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي وَاشْكُرُ أَمْ اَكْفُرُ (النمل: ۴۱) تو جہاں بھی فضل نازل ہو وہاں یہ آزمائش ہوتی ہے کہ جس فرد پر یا جس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا وہ فرد اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہے یاوہ جماعت خدا کا شکر ادا کرتی ہے یا ناشکری کی راہوں کو اختیار کرتی ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے بے شمار ایسے فضل نازل ہو رہے ہیں جو اُس کی قائم کردہ