خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 450 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 450

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۰ خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۷۴ء حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس دنیا میں ہر وہ وجود جو نظر آتا ہے۔کبھی موجود ہوا۔اب ہے یا آئندہ ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر نہ تو وجود میں آسکتا تھا، نہ نشو و نما حاصل کر سکتا تھا اور نہ وہ فائدہ مند چیز بن سکتا تھا لیکن یہ اور قسم کی مربیانہ رحمتیں ہیں جو اس کا ئنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔انسان کے لئے ابدی رحمت مقدر ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت میں ہمہ تن مشغول رہ کر اس کی رحمتوں سے حصہ لے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک لمبا عرصہ تک ایسے سامان پیدا کئے کہ انسان ارتقائی مدارج طے کرتا ہوا اس دور میں داخل ہو جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مقدر تھی اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اور مشن پورا ہونا تھا اور جس کی انتہا اس بات پر ہونی تھی کہ دنیا کا ہر انسان اپنے خدا کی معرفت حاصل کر چکا ہو اور اس کی رحمت سے ، اس کے پیار سے، اس کی رضا سے، اس دنیا میں بھی اور اس (آخری) دنیا میں بھی اس کی جنتوں سے حصہ لینے والا ہو۔پس بڑا عظیم کام ہے جو ہونا ہے۔بڑا عظیم کام ہے جس کی تکمیل کے لئے اس کی ساری عظمتوں کے باوجود میرے اور تمہارے جیسے کمزور کندھوں کو چنا گیا ہے ہمیں اس کے لئے قربانیاں دینی ہیں۔یہ ہمارا کام ہے ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم اس وقت خدا کے حضور پیش کرتے ہیں وہ فی ذاتہ کوئی چیز نہیں کیونکہ اسلام کے مخالفین میں سے ایک ایک آدمی اسلام کے خلاف چلنے والی مہموں کے لئے بسا اوقات پانچ پانچ کروڑ روپے دے سکتا ہے۔پس سوال پانچ کروڑ روپے کا نہیں یا دس کروڑ روپے کا نہیں ، سوال تو یہ ہے کہ کس اخلاص کے ساتھ ، کس جذبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کس پیار کے نتیجہ میں اور وفا کے کس جذبہ کے ساتھ ہم نے اپنی حقیر قربانیاں اس کے حضور پیش کیں جسے قبول کر کے اس نے اپنی قدرت کی تاروں کو ہلایا اور دنیا نے یہ سمجھا کہ جماعت احمدیہ نے یہ قربانیاں دیں اور اسلام غالب آیا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کا وجود اپنی تمام قربانیوں کے باوجود ایک ذرہ ناچیز سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے اس مادی دنیا میں تدبیروں میں چھپے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں اس نے ایک تدبیر کی اور اس کی تدبیر ہی ہمیشہ غالب آیا کرتی ہے۔اس کے مقابلے میں جو تدابیر کی جاتی ہیں وہ غالب نہیں آیا