خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 449

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۹ خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۷۴ء ہونے والے ہیں ان کی باتوں کو سنتے اور ان کی جہالت پر مسکراتے ہیں کیونکہ ساری دنیا کی مادی طاقتیں اور مادی دولتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مقابلہ میں ایک سکینڈ کے لئے بھی کھڑی نہیں ہوسکتیں۔غلبہ اسلام کا یہ منصوبہ جو صدیوں پر پھیلا ہوا نظر آتا ہے یہ اتنا لمبا اس لئے نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک سیکنڈ میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر میں ساری دنیا کو دین واحد پر جمع کرنا چاہتا تو اس کے لئے میرا حکم دینا کافی تھا لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ بندوں کو ایک مخصوص دائرہ کے اندر آزاد چھوڑ دے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ رضا کارانہ طور پر دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئیں اور محبت الہیہ کو حاصل کریں اور اس طرح وہ اُس شلجم سے کہیں زیادہ اللہ کے مقرب بن جائیں جو ایک ترکاری ہے اور خدائی مشیت کے تحت خدا کی رحمت کو حاصل کرتی ہے۔ظاہر ہے شلجم کے اندر جو غذائی خاصیتیں ہیں اُن کو اس نے اپنے زور سے حاصل نہیں کیا خدا نے کہا کہ شلجم کے اندر یہ یہ خاصیتیں پیدا ہو جا ئیں وہ پیدا ہوگئیں اب اگر انسان کی بھی یہی حالت ہوتی اگر وہ بھی ایک ”کن“ کے حکم پر جبراً مسلمان ہو جاتا ہے یعنی جس طرح شلجم پر جبر ہے خدا کی طاقت نے اس کو پکڑا اور کہا کہ تو میری معین کردہ حدود سے باہر نہیں جا سکتا یا مٹر ہے یا جانوروں میں سے مثلاً گھوڑا ہے یا بیل ہے یا اونٹ ہے یا سمندری جانور ہیں یا درخت ہیں پھلدار اور دوسرے کام آنے والے یا سمندر ہیں دریا ہیں یا فضا ہے۔سورج ہے اور اس کی روشنی ہے یہ سب قانونِ قدرت میں بندھے ہوئے ہیں لیکن اپنے اپنے دائرہ میں بندھے ہوئے ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کر رہے ہیں۔اگر حی و قیوم خدا اُن پر اپنی رحمت کا سایہ نہ ڈالے رکھتا تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی ان کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا لیکن جو رحمت اس نے انسان کے لئے مقرر کر رکھی ہے اس میں اور اس رحمت میں جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے زمین اور آسمان کا فرق ہے ایک وہ رحمت ہے جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے انسان کی رضا کارانہ اور عظیم اور مقبول جدو جہد کے نتیجہ میں آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے پیار اور محبت کے ساتھ اپنے بندہ کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔اس رحمت کا مقابلہ دوسری رحمتوں کے ساتھ جن کے مورد عموماً نباتات اور جانور وغیرہ ہوتے ہیں نہیں ہوسکتا۔گویا اس