خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 447
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۴۷ خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۷۴ء کے بعد اپنی کمزوری اور عاجزی پر نگاہ ڈالنی چھوڑ دیتے ہیں۔ہم آسمانوں کی طرف اپنی نگاہ کو اٹھاتے اور اس قادر و توانا خدا کی قدرتوں کے متصرفانہ جلوے دیکھ کر خدا پر توکل کرتے ہوئے اعلان کر دیتے ہیں کہ ایسا ہو جائے گا۔ورنہ ہم کیا اور ہماری طاقت کیا ؟ بظاہر یہ ناممکن ہے لیکن خدا نے آج آسمانوں پر یہی فیصلہ کیا ہے کہ اس کی تقدیر سے یہ بات بظاہر ناممکن ہونے کے باوجود بھی ممکن ہو جائے گی اور دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لئے جائیں گے۔ایک نیا دورنئی صدی میں شروع ہونے والا ہے۔میں نے بتایا ہے پہلی صدی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہے اور دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اب یہ صدی اور آئندہ آنے والی صدیاں مہدی معہود کی صدیاں ہیں کسی اور نے آکر نئے سرے سے اشاعت اسلام کے کام نہیں سنبھالنے یہ مہدی ہی ہے جو اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ میں ، اسلام کے جرنیل کی حیثیت میں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک محبوب روحانی فرزند کی حیثیت میں دنیا کی طرف بھیجا گیا ہے جماعت احمدیہ کی پہلی صدی بھی اسلام کے جرنیل کی حیثیت سے مہدی معہود کی صدی ہے اور دوسری صدی بھی مہدی معہود کی صدی ہے جس میں اسلام غالب آئے گا اس کے بعد تیسری صدی میں تھوڑے بہت کام رہ جائیں گے اور وہ جیسا کہ انگریزی میں ایک فوجی محاورہ ہےMoppling up operation ( یعنی جو چھوٹے موٹے کام رہ گئے ہوں اُن کو کرنا) جب تیسری صدی والے آئیں گے وہ خود ہی ان کاموں کو سنبھال لیں گے لیکن ہم جن کا تعلق پہلی اور دوسری صدی کے ساتھ ہے کیونکہ میرے سامنے اس وقت بھی جو چھوٹی سی جماعت کا ایک حصہ بیٹھا ہوا ہے اُن میں سے بہت سے وہ ہوں گے بلکہ میرا خیال ہے یہاں بیٹھنے والوں کی اکثریت وہ ہو گی جو اسی دلیری اور شجاعت اور فرمانبرداری اور ایثار کے جذبہ کے ساتھ پہلی صدی کو پھلانگتے ہوئے دوسری صدی میں داخل ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے حضور دینی قربانیاں پیش کرتے چلے جائیں گے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے کہ اسلام کے غلبہ کے لئے دوسروں کے دلوں میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں رہا۔