خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 426
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲۶ خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۴ء لیا جارہا ہے، وہ تربیت کا کام کر رہے ہیں۔وہ بچوں کو قاعدہ (یسر نا القرآن ) پڑھا رہے ہیں۔نوعمر نو جوانوں کو قرآنِ کریم ناظرہ پڑھا رہے ہیں۔جن کو ترجمہ نہیں آتا انہیں ترجمہ پڑھا رہے ہیں۔ہزاروں احمدی تربیت کے لحاظ سے ان سے مختلف مقامات پر استفادہ کر رہے ہیں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم تھوڑا سا زور اُس ہند و علاقہ میں اور لگا ئیں تو بظاہر ایسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ شاید عنقریب ہزاروں کی تعداد میں وہ ہندو مسلمان ہو جا ئیں۔اس وقت اُن پر اسلام میں داخل ہونے کے خلاف دو طرف سے زور پڑ رہا ہے۔ایک تو اندرونی مخالفت ہے دوسرے بڑے بڑے امیر اور تاجر پیشہ ہندو جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اونچی ذات ہے وہ اُن پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ان کے دباؤ کے نیچے ویسے تو وہ ہمیشہ سے غلاموں کی طرح تھے۔وہ ان کو قرض دیتے تھے اور شود وصول کرتے تھے۔بظاہر اُن پر احسان کرتے تھے اور اندر سے اُن کا خُون چوستے تھے۔اُن کا دباؤ بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات ایسے پیدا ہور ہے ہیں کہ یہ لوگ اس دباؤ کو قبول نہیں کر رہے۔پس اُس جگہ کام میں اضافہ ہونا چاہیے جس کے لئے پیسے کی بھی ضرورت ہے اور جس کے لئے مخلصین معلمین واقفین زندگی کی بھی ضرورت ہے جو وقف جدید میں کام کرنے والے ہوں۔کام میں وسعت پیدا ہورہی ہے اور نتائج میں برکت پیدا ہو رہی ہے۔اس لئے ہمارے نوجوان اور وہ لوگ جو ہمت اور عزم کے لحاظ سے جوان ہیں انہیں آگے آنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے کاموں کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اُٹھانا چاہیے۔گزشتہ سال وقف جدید کے چندہ میں پچاس ہزار کچھ سوروپے کا اضافہ تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت ہمت کرے اور اس سال یعنی سالِ رواں میں جو یکم جنوری سے شروع ہوا ہے۔جس کا اس وقت میں اعلان کر رہا ہوں۔ایک لاکھ روپیہ مزید دے دے اور وقف جدید کو میں کہوں گا کہ جو آپ کی زائد آمدنی ہوا سے اُس علاقہ میں خرچ کریں جہاں ہندو مسلمان ہو رہے ہیں تو آپ کے لئے بڑی برکت کا باعث ہے اور اسلام کے لئے بڑی خوشی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔وہ جو اُس سے دُور چلے گئے تھے۔وہ جو اُسے چھوڑ کر مورتیوں کی پرستش کرنے لگ گئے تھے وہ اس کی طرف آئیں گے تو اس کا پیار ان لوگوں کے لئے