خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 422

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۲۲ خطبہ جمعہ ۱۸؍جنوری ۱۹۷۴ء میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کو یہ بتایا تھا کہ یہ عظیم منصوبہ جس کا میں اعلان کر رہا ہوں اس کا ماٹو (Motto) دو بنیادی حقیقتیں ہیں جن کو ہم حمد اور عزم کے دولفظوں سے پکار سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم عاجز بندوں پر مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ بڑی ہی حمتیں نازل کرنی شروع کی ہیں اور ہم حمد کے ترانے گاتے ہوئے پختہ عزم کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہیں جس کی تعیین غلبہ اسلام کے لئے آسمانوں سے ہوئی اور ہمارا ہر قدم اس شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُسکے فضل سے وہ دن آنے والا ہے جب اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا اور تمام ملتیں مٹ جائیں گی سوائے اسلام کے۔جس کا گھر ہر انسان کا سینہ ہوگا اور جس خدا کو اس نے پیش کیا اُس کی محبت میں ہر دل مستانہ وار اپنی زندگی گزار رہا ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ جب وہ انسان کے لئے برکات اور رحمتوں کے سامان پیدا کرتا ہے اور انسان کی عاجز قربانیوں کو قبول کرتا ہے تو وہ لوگ جو زمین کی پستیوں کی طرف مجھکنے والے اور آسمانی رفعتوں سے بے خبر ہیں وہ حسد کی آگ بھڑکاتے ہیں اور حسد کی یہ آگ ایک عقل مند مومن کے لئے یہ دلیل مہیا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کی قربانیوں کو قبول کیا۔بنیادی صداقت تو توحید باری ہی ہے باقی سب فروعات ہیں۔بہر حال بنیادی صداقت اور اُس بنیادی صداقت کی فروعات کو ( جو صداقتوں کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہیں) مجھوٹ کے سہارے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی نہ بنیادی صداقت کو تضاد یا اختلاف کا سہارا لینا پڑا۔جب کسی دعویٰ کے خلاف ، جب کسی حقیقت کو ناکام بنانے کے لئے جھوٹ اور افترا کا سہارالیا جائے اور ایک ایک بیان میں انسان کو دس دس تضاد نظر آئیں تو محض یہ فعل ہی کہ جھوٹ کا سہارا لیا گیا اور متضاد باتیں بیان کر کے صداقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی اس بات کی بتین دلیل ہوتی ہے کہ جس چیز کے خلاف یہ مہم جاری کی گئی، جس کے خلاف جھوٹ باندھا گیا اور افتر ا سے کام لیا گیا ، متضاد باتیں بیان کر کے سننے والے کے دماغ میں خبط اور الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہ یقیناً صداقت ہے اور صداقت کو کسی مجھوٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں۔صداقت یا صراط مستقیم کے