خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 417

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۱۷ خطبه جمعه ۲۸ /دسمبر ۱۹۷۳ء پھر ایک اور قسم کی تحریف معنوی ہے جس کا ارتکاب نادانستہ طور پر خود مسلمان ممالک میں کیا جارہا ہے اور ان کی شدت بھی معاندین کے اعتراضات سے کم نہیں ہے اور وہ یہ دُکھ دہ اور شرمناک پرو پیگنڈا اور پر چار ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا تو پرانے زمانے کی باتیں ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شراب پینا تو اس لئے منع کیا گیا تھا کہ عرب کا گرم علاقہ تھا۔اب ہم ان سے زیادہ اچھے اور مہذب انسان ہیں ہمیں شراب نقصان نہیں پہنچائے گی۔پس یہ اور اس قسم کے دوسرے اعتراضات قرآنِ کریم میں تحریف معنوی کے مترادف ہیں۔ان اعتراضات کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے مظہر بندوں میں سے ایک گروہ کو کھڑا کورڈ ا کرتا اور اسے فہم قرآن عطا کرتا ہے اور وہ تحریف معنوی کا ازالہ کرتا ہے۔تحریف معنوی کی چوتھی کوشش یہ کی گئی کہ قرآنِ کریم میں جن عظیم معجزات اور نشانوں کا ذکر ہے اور جو انسانی طاقت سے بالا اور خدا تعالیٰ کے قادرانہ تصرفات کی دلیل ہیں ان کا انکار کر دیا گیا اور بڑے اصرار کے ساتھ یہ کہہ دیا گیا کہ نعوذ باللہ وہ سب کے سب غلط ہیں۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وو چوتھے روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے۔پس یہ چار قسم کے لشکر ہیں جن میں سے تین کا تعلق ”مطہروں“ سے ہے۔جنہیں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت لفظی اور معنوی کے لئے اس پیاری اُمت میں ہر صدی میں کھڑا کرتا رہا ہے۔ایک لشکر کو قوتِ حافظہ کے اسلحہ سے مسلح کیا اور انہوں نے قرآنِ کریم کو تحریف لفظی سے بچایا اور دوسرے ہر صدی میں مطہرین کی ایک جماعت پیدا ہوتی رہی جن کے ذریعہ وقت کی ضرورت اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق کسی ایک قسم کی اور کبھی دوسری قسم کی اور کبھی تیسری قسم کی تحریف معنوی سے بچانے کے سامان پیدا کئے گئے لیکن اس آخری زمانہ میں جبکہ اسلام پر کفر کا حملہ انتہائی شدت اختیار کر گیا اور مطہرین کے گروہ کے سپر د قرآن کریم کی تین قسم کی مدافعت کرنے اور اسلامی تعلیمات کی برتری ثابت کرنے کا جو انتظام کیا گیا تھا اس کی ضرورت بیک وقت