خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 403
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۰۳ خطبہ جمعہ ۱۴ /دسمبر ۱۹۷۳ء میں بھی عبادت کا تقاضا کیا جاتا ہے وہ اس پر پورا اترتا ہے۔وہ توحید حقیقی پر قائم رہتا ہے اور اپنی تمام ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرتا ہے۔بعض الہی بشارتوں کا مجموعہ ایک گلدستہ کی شکل میں عنقریب ہمارے لئے پیش کیا جائے گا یعنی وہ بشارات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملی تھی ان کے جلوے ظاہر ہونے کا زمانہ آنیوالا ہے اور وہ جلسہ سالانہ کے ایام ہیں۔جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت سی برکات کا ذکر فرمایا ہے یہ برکات ایسے لوگوں کی گود میں نہیں ڈالی جاتیں جو سوئے ہوئے یا غافل پڑے ہوں۔ان برکات کے حصول کے لئے بیدار رہنا پڑتا ہے۔اس لئے احباب جماعت کو ان برکات کے حصول کے لئے ہر وقت بیدار رہنا پڑے گا اور اس کے لئے جن راہوں پر چلنا ضروری ہے ان راہوں پر پورے وثوق کے ساتھ اور کامل یقین کے ساتھ چلنا پڑے گا یعنی ایسی راہوں کو اختیار کرنا پڑے گا جو اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کا ذریعہ بنتی ہیں اور انسان کو خدا تک پہنچاتی ہیں۔پس خاص بشارتوں کے دن جو ہمارے لئے ہر سال مقرر کئے گئے ہیں یہ دن آ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی محبت کے جلوہ گر ہونے کے دن آ رہے ہیں۔احباب جماعت ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فیوض سے کما حقہ متمتع ہونے کے لئے دعا ئیں کریں۔دعا بھی ایک تدبیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں یہ عجیب نکتہ بتایا ہے کہ دعا تدبیر ہے اور تدبیر دعا ہے (اس وقت میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا ) یہ ایک حقیقت ہے اسے سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ دعا بھی ایک تدبیر ہے بلکہ ایک ایسی تدبیر ہے جو ہر دوسری تدبیر کا شہتیر بنتی ہے۔اس کے بغیر دوسری تدابیر بے نتیجہ رہ جاتی ہیں اور ثمر آور نہیں ہوتیں اس لئے احباب دعا کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور التجا کریں کہ اے خدا! تو اپنے فضل سے ہمیں اس جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے والی بشارتوں کا وارث بنا اور ان کی برکات سے متمتع ہونے کی توفیق عطا فرما۔یہ اجتماع خدا کے لئے خدا ہی کی خاطر منعقد ہوتا ہے۔ظاہر ہے جو لیبی اجتماع ہوتے ہیں وہ