خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 391

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۱ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء بیدار ہو کر خدا تعالیٰ کے سلسلہ کے کاموں میں مشغول رہیں۔ایک ضرورت اور بھی بنیادی اور حقیقی ضرورت ہے اسلام اور امت محمدیہ کی۔باقی سب ضرورتیں اس کے ذیل میں آتی ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد نے اس کی ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے اور اس کی اہمیت اس قسم کے اجتماعات میں اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اسلام نے ضیاع کو پسند نہیں کیا اور اس کو بہت بُرا سمجھا ہے اور ایک مسلمان اور امت محمدیہ کے پاس ایک دھیلہ بھی ضائع ہونے کے لئے نہیں ہے۔ہر دھیلہ صحیح مصرف پر خرچ ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ اس کی قیمت ہمیں ملنی چاہیے اور یہ بھی ایک منبع برکت ہے جو لوگوں کو حیران کرتا ہے مثلاً ۴ ۵ - ۱۹۵۲ء کی بات ہے ہمارا تعلیم الاسلام کالج بن رہا تھا تو کچھ حاسد اور متعصب بھی تھے۔وہ یہ چاہتے تھے کہ لاہور میں جو ٹوٹی پھوٹی ڈی اے وی کالج کی عمارت صدر انجمن احمد یہ کوملی ہے وہ بھی واپس چھن جائے لیکن ہم سے پیار کرنے والے ہم پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والے بڑی دور کی سوچنے والے بھی تھے یعنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔آپ چاہتے تھے کہ جلد ہی ربوہ میں کالج آجائے تا کہ نوجوانوں کی صحیح تربیت ہو سکے دونوں کی اختلاف نیت کے باوجود خواہش ایک ہی تھی اور چونکہ اس عاجز پر اس وقت کالج کی ذمہ داری تھی اس لئے بڑی دوڑ دھوپ کرنی پڑ رہی تھی کہ کسی طرح ایسے سامان پیدا ہو جا ئیں کہ ہم جلد ربوہ منتقل ہوسکیں۔اس وقت جو وزیر تعلیم تھے ان سے ہمارا تعلق تھا میں ان کے پاس گیا۔میں نے کہا کہ کالج تو بہر حال ایک قومی ضرورت ہے۔آپ نے تقسیم ملک کے بعد ایک نقشہ کے مطابق دو جگہ کالج بنائے ہیں۔آپ وہ نقشے مجھے دے دیں اور جتنی رقم آپ کی خرچ ہوئی ہے اس کا چالیس فیصد دے دیں تو آپ کو جو لوگ آئے دن تنگ کرتے رہتے ہیں کہ احمدیوں کو لاہور سے نکا لو تو آپ ان لوگوں کے اس دباؤ یا ایڈا سے بھی بیچ جائیں گے اور ہمارا کالج بن جائے گا اور آپ کو یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ آپ نے جو کچھ خرچ کیا س کا ساٹھ فیصد کہاں گیا کیونکہ انہی نقشوں کے مطابق چالیس فیصد کے خرچ کے ساتھ میں عمارت بنوا دوں گا۔وہ ہنس کر مجھے کہنے لگے کہ وہ تو ہمیں پہلے ہی پتہ ہے کہ ساٹھ فی صد رقم کہاں جاتی ہے۔مطلب یہ تھا کہ آپ کو ہم رقم دینے کے لئے تیار نہیں لیکن وہ تو میں نے ایک بات ان سے کہی