خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 379

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۹ خطبه جمعه ۳۰/ نومبر ۱۹۷۳ء بنے تھے کہ اسلام کی اشاعت ہو۔گویا ایسی جگہیں اپنے اپنے دائرہ اور اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اشاعتِ اسلام کا مرکز بن گئیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اُم القری ٹھہرے۔جب یہ مراکز بنے تو جن علاقوں سے ان مراکز کا تعلق تھا ان علاقوں کی نگاہیں انہی مرا کز کی طرف اٹھتی تھیں مثلاً ایک لمبا عرصہ یورپ کے لئے پین اسلامی دارالخلافے مراکز بنے رہے جہاں بڑی زبر دست لائبریریاں، درسگاہیں اور یو نیورسٹیاں تھیں جن کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے مشہور پادری وہاں حصول علم کے لئے آتے تھے۔ظاہری دنیوی علوم جیسے علم طبیعات، علم کیمیا علم حساب وغیرہ سیکھنے کے علاوہ اخلاقی لحاظ سے بھی وہ اسلامی تعلیم سے متأثر ہوکر واپس جاتے تھے۔جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے روحانیت کا تو اس سے بھی بلند درجہ ہے ) دوسرے مذہب چونکہ ارتقائی ادوار کی نچلی منازل میں ہیں جس وقت انبیاء مبعوث ہوئے نوع انسانی ابھی اپنی استعداد کے لحاظ سے ارتقائی دور میں سے گزر رہی تھی اس لئے وہ ان اسلامی اخلاق کی حامل نہیں ہو سکتی تھی جو بعد میں اُمت محمدیہ کو دیئے گئے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بُعثتُ لِأُتِيَمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے اس غرض سے بھی مبعوث فرمایا ہے کہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔چنانچہ اہل یورپ اخلاقی پہلوؤں کے اعتبار سے بھی متاثر ہوتے اور مسلمانوں سے سبق لیتے تھے۔علاوہ ازیں مسلمانوں کی یہ بھی کوشش ہوتی تھی کہ وہ روحانیت سے بھی سبق لیں اور متاثر ہو کر واپس جائیں بہر حال جہاں جہاں اور جس جس زمانہ میں بھی یہ مرکز تھے۔جس علاقے اور جس زمانے سے بھی ان کا تعلق تھا اس زمانہ اور اس علاقہ کی نگاہیں ان مراکز کی طرف اٹھتی تھیں اور وہ ان کے لئے نمونہ بنتے تھے۔پھر ہمارے اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عظیم روحانی فرزند پیدا ہو گیا جس نے دنیا میں اسلام کو غالب کرنا تھا۔چنانچہ اس زمانہ کے لحاظ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اور ان کے ظل کے طور پر سب سے بڑا کام جس مرکز کے سپر د ہوا ہے وہ وہ مرکز ہے جس کا تعلق سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ ہے اور وہ اس وقت احمدیت کا مرکز ربوہ ہے اب یہی وہ مرکز ہے جس کی طرف مکہ اور مدینہ کے بعد دنیا کی نگاہیں اٹھتی ہیں اور اٹھیں گی اور اٹھنی چاہئیں۔گو اس وقت ابتدا