خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 377

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۷۷ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۳ء جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ سے اسلام کو غالب کرنے کی عظیم مہم جاری ہے خطبه جمعه فرموده ۰ ۳ نومبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مجھے پتہ چلا تھا کہ مسجد کے بعض حصوں میں لاؤڈ سپیکرز ٹھیک کام نہیں کرتے اس لئے وہاں تک آواز نہیں پہنچتی۔اس وقت مسجد میں بعض جگہیں خالی ہیں۔کچھ دوست تاخیر سے آنے والے وہاں بیٹھیں گے۔وہ تو جواب نہیں دے سکتے لیکن جو دوست یہاں بیٹھے ہیں۔وہ مجھے بتائیں کہ اس وقت ہر جگہ آواز پہنچ رہی ہے یا نہیں۔( دوستوں نے عرض کیا کہ آواز آرہی ہے ) پھر فرمایا:۔قرآنِ عظیم نے بتایا ہے کہ اِن اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلناس کی رو سے وہ گھر جو شریعت کے قیام کے لئے پہلے پہل انسان کو ملا تھا، وہ مکہ میں ہے اور اس وجہ سے مکہ کو قرآنِ کریم کی ہدایت کے مطابق اُم القری کہتے ہیں۔جس طرح ماں سے اس کے بچے وابستہ ہوتے ہیں اسی طرح وہ شہر جس سے بہت سے دوسرے شہر وابستہ ہوتے ہیں اُم القری ( یعنی بستیوں کی ماں ) کہلاتا ہے اور یہ حیثیت مکہ مکرمہ کو حاصل ہے۔قرآنِ کریم کی دو بنیادی صفات ہیں۔ایک یہ کہ قرآنِ عظیم پہلی صداقتوں کا جامع ہے اور دوسرے یہ کہ ان صداقتوں کو بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہے جن تک