خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 344

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۴۴ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء کوئی کھڑا ہوکر کہے کہ جو معنے اس مہدی نے کئے ہمارے پہلے معانی سے مختلف ہیں اس لئے ہم ان کے اوپر کوئی پابندی لگائیں گے تو اس سے زیادہ شوخی کا اور کوئی کھیل نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ آج اسلام پر اعتراضات کو دور کرنے کے لئے اور اسلام کو اس قابل بنانے کے لئے کہ اُمت مسلمہ دنیا کے دل کو پیار اور محبت کے ساتھ اور قرآن کریم کی حسین اندرونی تعلیم اور عظیم روشنی کے ساتھ جیتے۔یہ سوچنا میرے نزدیک بڑی شوخی ہے اور بڑی جہالت اور اندھا پن ہے۔تمہیں نظر نہیں آرہا کہ اس دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا تم اتنے ہی کند ذہن ہو؟ اور کیا ماضی سے اتنا ہی تمہارا تعلق کٹا ہوا ہے کہ تم بھول گئے ان اعلانوں کو جو ایک وقت میں اسلام کے خلاف عیسائیوں نے اور ہندوؤں نے اور آریوں نے اور سب دوسروں نے مل کر کئے تھے؟ ساری دنیا اسلام کو مٹانے کے لئے اکٹھی ہو گئی اور اس وقت جو دنیائے اسلام کہلاتی ہے وہ سوئی ہوئی تھی۔اُن کو تو ان اعتراضوں کا بھی علم نہیں تھا، ان ہتھیاروں کا علم نہیں تھا جن سے اسلام پر حملہ ہوا تھا۔اس وقت ایک شخص تھا جو راتوں کو خدا کے حضور جھک کے اس کی امداد کا طالب ہوتا تھا اور اس کی دی ہوئی مدد سے دن کے اوقات میں وہ دنیا کے سامنے اسلام کے پہلوان کی شکل میں ایک عظیم جرنیل کی صورت میں آتا اور اسلام کی مدافعت بھی کرتا۔اسلام کی خوبیاں بیان کر کے دلوں کو جیتا تھا۔وہ اکیلا آج ایک کروڑ کیسے بن گیا؟ خدا کی قدرت کا ہاتھ اس کے ساتھ ہے اور خدا تعالیٰ کے منشا کے بغیر دنیا کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ہمیں تو اس بات کی تسلی ہے لیکن تمہیں کس چیز کی تسلی ہے جو تم ہمارے رستہ میں روک بننا چاہتے ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم میں خدا سے لڑنے کی طاقت ہے؟ یا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اسلام تمہاری ہی باتوں سے ان اعتراضات کی یلغار سے بچ جائے گا جن کو نہ اعتراض کی سمجھ نہ اس کی مدافعت کی طاقت اور علم۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف جگہ ان باتوں کو کھول کر بیان کیا ہے۔آپ قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آخر وہی ہے جو موجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہو جاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر ایک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔راستبازوں