خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 297
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۹۷ خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۳ء علاوہ دوسرے چندوں کے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کے وعدے کیے تھے جن میں سے گیارہ لاکھ سے اوپر وہ ادا بھی کر چکے ہیں۔یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی اسلام کے حق میں ایک خوشگوار رو چل پڑی ہے۔امریکہ میں اتنی مخلص جماعتیں ہیں کہ آپ اُن کا اندازہ نہیں کر سکتے۔وہاں سے جو رپورٹیں آتی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ امریکن باشندے جماعت میں شامل ہورہے ہیں جولوگ یہاں سے نوکریوں وغیرہ کے سلسلہ میں جاتے ہیں میں اُن کی بات نہیں کر رہا) چنانچہ وہاں بھی بڑی مخلص جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔پھر انڈونیشیا میں بہت بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔فجی آئی لینڈ میں بھی ایک بڑی تیز حرکت ہے۔ماریشس کا بھی یہی حال ہے۔غرضیکہ ساری دنیا میں مختلف ملکوں میں اس وقت یا تو بڑی بڑی جماعتیں ہیں یا تعداد کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹی جماعتیں ہیں لیکن یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ اشاعتِ اسلام کے کام میں بہت وسعت پیدا ہو سکتی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ ایک وقت میں انگریز کا یہ دعوئی تھا ( صحیح تھا یا غلط) کہ برٹش کامن ویلتھ پر سورج غروب نہیں ہوتا مگر آج وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کیونکہ کامن ویلتھ ختم ہو چکی ہے۔اب ایک نیا بین الا قوامی اجتماعی وجود دنیا میں ابھرا ہے اور وہ جماعت احمد یہ اسلامیہ ہے جو اسلام کو غالب کرنے کی مہم میں مصروف ہے اور یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس پر سورج غروب نہیں ہوتا کیونکہ جماعت احمد یہ ساری دنیا میں پھیل گئی ہے۔پس یہ ایک حقیقت زندگی ہے جو ہمیں بھولنی نہیں چاہیے کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسعت حاصل ہو گئی ہے۔ساری دنیا میں جماعت پھیل گئی ہے اور بہت سے ممالک میں جماعتہائے احمدیہ کی بڑی کثرت ہے۔بیسیوں جماعتیں بڑا اثر و رسوخ رکھنے والی ہیں یہ ایک حقیقت زندگی ہے اور دوسری حقیقت زندگی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے میری بعثت کی بنیادی غرض یہ ہے کہ تمام نوع انسانی کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے اُمتِ واحدہ کی شکل میں اکٹھا کیا جائے یعنی تمام بنی نوع انسان ایک خاندان اور ایک اُمت بن جائیں۔اگر چہ یہ کام بڑا اہم ہے اور مشکل بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی حرکت، اس کا پھیلاؤ اور وسعت روز افزوں ترقی پر ہے یہ گویا ایک پہلو ہے حقیقت زندگی کا