خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 250

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۰ خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۷۳ء ممالک کو تحقیق سے روک سکیں تو پھر اس دوڑ کو جہاں تک وہ پہنچ چکے ہیں ختم کر سکتے ہیں لیکن اس میں انہیں کا میابی نظر نہیں آرہی۔ایٹم بم جو بن چکے ہیں اس جدوجہد کی دو شکلیں نکل سکتی ہیں یا یہ بم استعمال کر لئے جائیں یا انسان کوئی ایسا طریقہ سوچے کہ ان کے استعمال کی ضرورت نہ پڑے تیسری کوئی صورت عقلاً ممکن نہیں اگر استعمال ہوں گے تو اس کے نتیجے میں انسان پر بڑی تباہی آئے گی اور اگر استعمال نہیں ہوں گے اور خدا کرے کہ استعمال نہ ہوں تو وہ عظیم سرمایہ جو انسان نے ان پر خرچ کیا کلی طور پر ضائع ہو جائے گا۔اگر یہ سرمایہ ان بد ہتھیاروں پر خرچ نہ ہوتا تو انسان کی ضروریات پر خرچ ہوسکتا تھا۔پس دو چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ جو ذرائع ہیں وسائل ہیں وہ صالح اور طیب اور حلال مثلاً جو رقوم خرچ کی جاتی ہیں اگر ماہرین اقتصادیات ان کی تفصیل میں جائیں تو سود اور انشورنس کا رو پیدان کاموں پر خرچ ہوتا ہے پرانے زمانے میں انشورنس کمپنیاں ہی جنگیں کروایا کرتی تھیں۔اب حالات بدل گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عقل مند یہی کہے گا کہ وہ رقم جو خیر نہیں۔پر خرچ ہونی چاہیے تھی اس کی بجائے بدی پر میت ہونے والی تحقیقوں پر خرچ ہورہی ہے۔دوسری یہ چیز نمایاں ہے کہ اس عظیم جد و جہد اور کوشش کا نتیجہ بجائے بھلائی کے انسان کے لئے فکر اور خوف کا باعث ہو رہا ہے اور یہ خطرہ پیدا ہورہا ہے کہ انسان خود کشی کر کے کہیں اپنی ہلاکت کے سامان پیدا نہ کر لے۔قرآن کریم نے اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے ہمیں بتایا ہے کہ مجرد مسابقت بری نہیں لیکن مسابقت وہ ہونی چاہیے جو خیر کا باعث ہو۔خیر کی جو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے وہ دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے یعنی وسائل نیک ہوں اور نتائج بھی نیکی اور بھلائی کے ہوں۔اس دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ایسی دوڑ جاری ہے کہ انسانی تاریخ میں ایسی کوئی مثال پہلے نظر نہیں آتی اس دنیا میں جماعت احمدیہ کو دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔اگر احمدیت نے کامیاب ہونا ہے اور اسلام نے غالب آنا ہے تو جماعت احمدیہ کو اس مسابقت میں آگے نکلنے کی کوشش میں ایسی شدت اور محسن پیدا کرنا پڑے گا کہ کامیابی بھی