خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 5
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء ہے اور سٹیشنری یعنی کاغذ وغیرہ کا جو خرچ ہے، اس کا انتظام کرنا پڑے یہ انتظام تو انشاء اللہ ہو جائے گا لیکن پہلے تو اس کمیٹی کو جائزہ لینا چاہیے کہ موصیان نے کس حد تک کام کیا ہے دوسرے چونکہ موصیان کی چھان بین ضرور ہوتی رہنی چاہیے اس لئے یہ کمیٹی موصیان کا عمومی جائزہ بھی لے کیونکہ صرف وصیت کا چندہ شرط نہیں ہے یہ تو ایک معمولی سی شرط ہے۔اصل تو دوسری چیز میں ہیں جن کا خیال رکھنا چاہیے چنانچہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المآئدۃ:۳) کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مومن ایک دوسرے کی نگرانی کرنے والے ہوں۔تاہم یہ صحیح ہے کہ بہت سے کام بغیر نگرانی کے مکمل ہو جاتے ہیں لیکن بہت سے ایسے کام بھی ہیں جو بغیر نگرانی کے صحیح طور پر بجانہیں لائے جا سکتے اُن کا اگر خیال رکھا جائے تو وہی فرد یا گروہ جن میں ایک وقت میں شستی نظر آتی ہے چست ہو جاتے ہیں اور اُن کا کام اچھا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے موصیان کو دوسروں کے مقابلہ میں اپنی نعمتوں سے زیادہ نوازا ہے۔اُس نے انہیں وصیت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اُن کو اُن بشارتوں کے حصول کے امکان کو پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی جنت مل جاتی ہے اور اُخروی زندگی میں بھی جنت کے متعلق الا ماشاء اللہ کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔تاہم اس احسان یا ان نعماء کی وجہ سے اُن پر شکر کرنے کی ذمہ داری بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے جہاں ناشکری ہوتی ہے وہاں ناکامی ہوتی ہے۔ناشکری اور نا کا می دونوں ہی ہمیں انسانی زندگی میں پہلو بہ پہلو کھڑی نظر آتی ہیں اس لئے اگر ایک موصی خدا کا شکر گزار بندہ نہیں بنتا اور اِعْمَلُوا ال داودَ شُکرا کا مصداق نہیں بنتا۔اپنے عمل کو شکر کی بنیاد پر قائم نہیں کرتا تو بعض دفعہ کسی موصی کے حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اس کی وصیت منسوخ ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں دوست عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے آدمی سے حصہ وصیت کی ادائیگی میں سستی ہوئی اس لئے اس کی وصیت منسوخ ہو گئی ہے لیکن میں درد بھرے دل کے ساتھ یہ سمجھا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا جس سے وہ خدا کے غضب کا مورد بن گیا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ