خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 228
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء پڑے گی کہ تمہارے اوپر یہ بات فرض کر دی گئی ہے۔البتہ یہ صحیح ہے کہ یہ کام بہت وسیع ہے۔یہ ذمہ داری بہت بھاری ہے اور یہ کام اتنی دولت کا محتاج ہے کہ آج ہماری وسعت یا ہماری دولت یا ہماری طاقت اس کو نباہ نہیں سکتی لیکن جس ہستی نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں تمہارے ذریعہ یہ کام کرواؤں گا۔وہ ہمیں پیسے بھی دے گا۔وہ ہمارے اندر ہمت اور وسعت بھی پیدا کرے گا۔وہ اپنی قادرانہ صفات کے جلوے ہمارے وجود میں ظاہر فرمائے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس لئے اس بات کی تو فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں۔یہ کام کیسے ہوگا۔احباب کو یاد ہوگا میں نے ۱۹۷۰ء میں کہا تھا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ افریقی ممالک میں غلبہ اسلام کی مہم میں شدت اور تیزی پیدا کرنے کے لئے کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ خرچ کرو۔میں نے کہا مجھے یہ فکر نہیں ہے کہ پیسے کہاں سے آئیں گے دولت اور خزانوں کا مالک تو خود خدا تعالیٰ ہے۔اس نے کہا ہے تو وہ خود اس کا انتظام فرمائے گا۔یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے نوکر کو یہ کہے کہ مہمان آگئے ہیں تم جا کر چار آنے کا دہی لے آؤ۔وہ کہے حضور پیسے دو۔کہے میں پیسے نہیں دوں گا۔وہ کہے گا پھر دہی کہاں سے لاؤں۔اگر ایک عظمند مالک دہی کا حکم دیتے ہوئے نوکر کے ہاتھ پر پیسے بھی رکھ دیتا ہے تا کہ وہ فوراً دہی لے آئے تو وہ جو تمام حکمتوں کا سر چشمہ ہے اور عقل و فراست کا منبع ہے اور ہر امر کا مصدر ہے اس کے متعلق تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں وسیع پیمانے پر قرآنِ کریم کی اشاعت کا حکم دے اور تمہارے لئے پیسوں کا انتظام نہ کرے۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔چنانچہ میں نے دوستوں سے کہا مجھے پیسوں کی فکر نہیں ہے۔اسی طرح اس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر بھیجو۔ٹیچر بھیجو۔میں نے کہا مجھے اس کی بھی فکر نہیں ہے۔مجھے جس چیز کی فکر ہے اور تمہیں بھی ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہماری حقیر کوششیں جب اس کے حضور پیش ہوں تو وہ ان کو قبول بھی کرے گا یا نہیں۔ہماری اپنی غفلت ، اپنی کوتاہی اور اپنے گناہ یا اپنی غلطی کہیں ہماری نا کامی کا موجب نہ بن جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کہے میرے پاس کیا لے کر آئے ہو۔میرے خزانے بھرے ہوئے ہیں اس لئے لے جاؤ مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ہمارے اپنے دلوں کے گند کا رد عمل ہو کہ ہم اس کے حضور پیش کریں مگر وہ عند اللہ قبول نہ ہو۔اس لئے یہ وہ