خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 4
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۵ /جنوری ۱۹۷۳ء رموز و اسرار قرآنی کا علم ہر انسان کو تو نصیب نہیں ہوتا لیکن قرآن کریم کی تفسیر ایسی بھی ہے جو روز مرہ ہمارے کام آنے والی ہے۔اس کا علم بھی ہونا چاہیے مگر سات سال ہونے کو ہیں ابھی تک اس سلسلہ میں کو ئی ٹھوس اور نمایاں کام نظر نہیں آیا۔پھر موصیان کے ذمہ ایک یہ کام بھی کیا گیا تھا کہ جماعت احمدیہ کی عام تربیت کے معیار کو بلند کرنے کے لئے ، ان کی کوششوں سے کم از کم پانچ ہزار واقفین عارضی ہمیں ملنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا پانچ ہزار سے زیادہ واقفین عارضی ہمیں مل تو گئے لیکن اس میں کتنا حصہ موصیان کی کوششوں کا ہے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔میرے خیال میں اس میں تو شاید نصف بھی ان کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوگا بہر حال مطلوبہ تعداد پوری ہو جانے سے ان کی پردہ پوشی ہو گئی۔تیسرے موصیان کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ تم جہاں بھی رہتے ہو مثلاً راولپنڈی میں رہتے ہو یا لاہور میں رہتے ہو یا کراچی میں رہتے ہو یا لائلپور میں رہتے ہو یا سرگودھا میں رہتے ہو یا چک ۹۹ شمالی میں رہتے ہو یا دوسرے چکوک اور دیہات میں رہتے ہو۔جہاں بھی تم رہتے ہو تم اس بات کا خیال رکھو کہ تمہاری جماعت (اس سے اصطلاحی جماعت مراد ہے ) مثلاً سرگودھا کی جماعت ہے یا راولپنڈی کی جماعت ہے یا کراچی کی جماعت ہے یا لائلپور کی جماعت ہے یا چک ۹۹ شمالی کی جماعت ہے وغیرہ۔اس میں کوئی شخص ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم آنا چاہیے تھا لیکن اسے پڑھنا نہیں آتا۔اس کے متعلق بھی کوئی واضح اور خوشکن رپورٹ کم از کم میرے سامنے نہیں آئی۔اس لئے ہمیں کچھ انتظامی کام کرنے پڑیں گے تا کہ صحیح کام ہوں اور کام کی صحیح رپورٹیں ہوں۔ربوہ میں موصیان کی ایک مرکزی سب کمیٹی مقرر ہو جانی چاہیے جو ان سب کاموں کے کروانے کی ذمہ دار ہو۔نظارت اصلاح وارشاد یا اس سے تعلق رکھنے والے ہمارے تین چار بزرگ دوست عبدالمالک خانصاحب۔ابوالعطاء صاحب اور قاضی محمد نذیر صاحب ہیں یہ موصیان ربوہ کا ایک جائزہ لیں اور عمر کے لحاظ سے صحت اور ہمت کے لحاظ سے اور کام کی اہلیت کے لحاظ سے اُن کے نزد یک جو ۲۵ موصیان کام کروانے کے اہل ہوں ان کی فہرست مجھے اگلے جمعہ سے پہلے دے دیں۔میں ان میں سے ایک کمیٹی مقرر کر دوں گا اور پھر خواہ با تنخواہ کلرک اور دوسرا عملہ جو ضروری