خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 216

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۱۶ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء اس کا پورا جائزہ لے لینا چاہیے کیونکہ کسی منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لئے پورا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے اس کے بغیر صحیح منصوبے نہیں بنتے اور نہ کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔گویا ہم نے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ یورپ میں کس جگہ با آسانی ہم اپنا پریس کھول سکتے ہیں اور افریقہ میں کون سا ملک اس کام کے لئے زیادہ موزوں ہے۔چنانچہ اس وقت تک جو اشاعت قرآنِ کریم ہوئی ہے اس میں افریقہ کا زیادہ حصہ ہے یہ کام ’ نصرت جہاں آگے بڑھ سکیم کے ماتحت ہو رہا ہے لیکن جماعت احمدیہ کا کام تو بہت پھیلا ہوا ہے اس سارے کام کے ہزارویں حصہ تک نصرت جہاں سکیم کا کام منحصر ہے لیکن چونکہ نصرت جہاں منصوبہ کے ساتھ اس کی ابتدا ہوئی تھی اس لئے قرآن کریم کی زیادہ اشاعت بھی افریقہ میں ہوئی خصوصاً ان ملکوں میں جن کا میں نے دورہ کیا تھا۔وہاں سے کئی عیسائی طالب علم بچے مجھے خط لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں قرآنِ کریم مترجم بھجوائیں۔میں ان کو لکھ دیتا ہوں کہ وہاں کے امیر سے ملو۔ایک طالب علم نے مجھے لکھا کہ ایک نسخہ بائیبل کا اور ایک قرآنِ کریم مترجم کا بھجوا دیں وہ شاید عیسائیت اور اسلام کا موازنہ کر رہا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہدایت کی راہیں کھول دی ہیں اور وہ اسلام میں بہت دلچسپی لینے لگ گئے ہیں۔امریکہ اور انگلستان میں اور اسی طرح یورپ کے دوسرے ممالک میں اشاعت قرآنِ کریم کا جو کام ہے وہ کچھ مختلف ہے اور حقیقی معنی میں ابھی اس کی ابتدا بھی نہیں ہوئی وہاں اشاعت کے کام میں بھی وہ وسعت پیدا نہیں ہوئی جو فریقہ میں پیدا ہو چکی ہے۔قرآنِ کریم کے بہت کم نسخے یورپ و امریکہ میں گئے ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ احمدی دوستوں نے خریدے ہیں۔دراصل ملک ملک کے مزاج میں فرق ہوتا ہے جس کا غذ پر ہم نے قرآنِ کریم چھپوایا ہے وہ بڑا اچھا ہے۔پاکستان میں کسی آدمی کو اس کاغذ پر اعتراض نہیں ہو گا۔اسی طرح افریقہ میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔وہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ جو قرآن کریم بعض انجمنوں کی طرف سے وہاں بھجوائے جاتے ہیں ان کا کاغذ تو بہت ہی معمولی ہوتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے رڈی کے ڈھیر میں سے کاغذ اٹھا کر اس کے اوپر قرآن مجید جیسی عظیم کتاب کی طباعت کر دی ہے لیکن اس وقت امریکہ کا