خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 210
خطبات ناصر جلد پنجم ایک سوا یکٹر زمین دینے کا وعدہ کیا ہے۔۲۱۰ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۳ء جب میں وہاں گیا تھا تو اس وقت ان کی عمر ۸۵ سال کے لگ بھگ تھی۔گو بڑے بوڑھے آدمی تھے لیکن بڑی ہمت والے انسان تھے پچھلے سال ان کی وفات ہوگئی۔زمین کے متعلق دفتری کارروائی جاری رہی تھی یہ کارروائی بہر حال کچھ وقت لیتی ہے۔پھر وہاں کی اکثر زمینیں جنگلات کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں۔جنگلات بھی ایسے کہ جن میں نہ کوئی پٹواری گیا اور نہ کوئی قانون گو، جن میں نہ کوئی نشان لگا اور نہ حد بندی ہوئی بس ایک وسیع جنگل ہے جو خالی پڑا ہوا ہے۔علاوہ ازیں وہاں پر زمین کی دوہری ملکیت ہے۔حکومت بھی مالک ہے اور کئی افراد یا پرانے قبائل کی بھی ملکیت ہے۔جب کوئی حصہ زمین فروخت ہوتا ہے تو اس کی قیمت کا ایک حصہ حکومت لیتی ہے اور ایک حصہ قبائل کو ملتا ہے۔یہ گویا کچھ اس قسم کا انتظام ہے جو ہمارے یہاں سے بالکل مختلف ہے۔مجھے اس کی تفصیل کا پورا علم بھی نہیں۔صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہمارے ملک سے ان کا انتقال اراضی کا نظام بہت مختلف ہے۔غرض پریذیڈنٹ ٹب مین صاحب کی زندگی میں تو سو ایکڑ زمین ہمیں نہ مل سکی لیکن جب ان کی وفات ہوئی تو چونکہ ان کے آئین کے مطابق وہاں کا نائب صدر نئے انتخابات تک صدر بن جاتا ہے اس لئے مسٹر ٹالبرٹ جو وہاں کے نائب صدر تھے اور بڑی اچھی شخصیت کے مالک تھے صدر بن گئے ان سے بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔یہ بھی ہمارے ساتھ بڑا تعلق رکھتے تھے لیکن جو تعلق پریذیڈنٹ ٹب مین کے دل میں ہمارے لئے تھا جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا تھا۔مسٹر ٹالبرٹ کا ہمارے ساتھ ویسا تعلق تو نہیں تھا لیکن پھر بھی مسٹر البرٹ ہم سے بڑا اچھا تعلق رکھتے تھے۔ان کے زمانہ میں بھی ہمارا یہ معاملہ سرخ فیتہ کی زد میں رہا۔ایک لمبے عرصہ تک کا رروائی ہوتی رہی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کب اور کیا فیصلہ ہوگا ؟ کبھی کوئی مشکل پیش آجاتی تھی کبھی کہتے تھے دستاویز کے الفاظ درست نہیں۔غرض یہ معاملہ بڑے لمبے عرصہ تک چلتا رہا یوں سمجھئے کہ اس بات کو قریباً تین سال ہو گئے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا اب چند دن ہوئے اطلاع آئی ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے۔پہلے یہ اطلاع ملی کہ پریذیڈنٹ ٹالبرٹ نے نقشہ پر منظوری دے دی ہے