خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 166

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۶ خطبہ جمعہ ۱۱ رمئی ۱۹۷۳ء جماعت اس عرصہ میں ان کے اس نیشنلائزڈ انسٹی ٹیوشن (Nationalised Institution) پر پچاس ہزار روپے خرچ کر چکی ہے کیونکہ جماعت تو ہر فرد کی بمنزلہ ماں اور باپ کے ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندہ جماعت ہے جس طرح جماعت اپنی تنظیم سے اپنے باپوں سے بڑھ کر پیار کرتی ہے اسی طرح تنظیم احباب جماعت سے ان کے باپوں اور ماؤں سے زیادہ بڑھ کر پیار کرتی ہے سوال یہ نہیں تھا کہ حکومت کو خرچ کرنا چاہیے تھا اس لئے وہ خرچ کیوں کیا جائے ؟ سوال یہ تھا کہ بچے تو ہمارے ہی ہیں وہ ان بچوں کو اپنا بچہ نہیں سمجھتے تو وہ ہمارے نزدیک گناہ گار ہیں اور ہمارے نزدیک وہ اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی اہلیت نہیں رکھتے لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم یہ کہہ دیں کہ بچوں کے سروں پر بے شک چھتیں گر جائیں ہمیں کیا ہے؟ بچے ہمارے ہیں اور انشاء اللہ ان کے سروں پر چھتیں نہیں گریں گی چنانچہ ہم نے پچاس ہزار روپے بورڈ نگ کی مرمت پر خرچ کر دیئے۔اس لحاظ سے یہ گو یا ہنگامی سال تھا۔اس سال حکومت کی بعض پالیسیوں کے مقابلہ میں جتنی بچت ہونی چاہیے تھی اتنی بچت نہیں ہوئی کیونکہ زیادہ تر پیسے تعلیمی اداروں پر شروع ہی میں خرچ ہو گئے تھے۔قومی تحویل میں بعد میں گئے ہیں اس کے باوجود جو ہمارا خرچ کا بجٹ ہے جس وقت بجٹ بنتا ہے تو اس وقت خرچ کی بعض مذات بطور ریز رو کے ہوتی ہیں۔جس وقت اللہ تعالیٰ نے پریس کی سکیم میرے ذہن میں ڈالی ( آج میں پہلی دفعہ آپ کو بتانے لگا ہوں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے کیا اشارہ کیا تھا) میں اس سلسلہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ جب خدا نے مجھے یہ سکیم بتائی تو میں نے کہا کہ میں اس کے لئے جماعت سے چندہ کی اپیل نہیں کروں گا۔ہمارا اندازہ تھا کہ اس پریس پر دس لاکھ روپے خرچ آئیں گے اگر دس لاکھ روپے خرچ کریں اور ہر سال ایک لاکھ روپیہ واپس کریں تو دس سال میں قرضہ ختم ہو جائے گا۔جماعت کے اتنے ریز رو ہیں ان میں سے بطور قرض لے لیں گے۔ایک لاکھ جو واپس کرنا ہے وہ سالا نہ چندوں میں سے ہے چنانچہ تین چار سال سے ایسا ہو رہا ہے ہر سال ایک لاکھ روپیہ علیحدہ کیا جاتا رہا ہے۔یہ ریزرو میں جاتا ہے مگر خرچ میں دکھا دیا جاتا ہے یا ہماری کئی لاکھ روپے کی مد ہے ریز رو برائے واپسی قرضہ جات کی۔کچھ تو ۴۷ء میں رقمیں ضائع ہو گئی تھیں۔وہ قرضوں میں رکھی ہوئی ہیں ورنہ پھر یہ