خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 145
خطبات ناصر جلد پنجم نہیں تو اور کیا ہے؟ ۱۴۵ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء بعض کے نزدیک ۱۲ نمائندے اجلاس میں شریک تھے۔جو نمائندے اجلاس میں شامل تھے اُن میں سے بعض وہ بھی تھے جنہوں نے احمدیوں سے کہا کہ وہ تو اس قرار داد سے بالکل متفق نہیں۔وہ تو اس قرار داد کے پاس کرنے میں شامل نہیں ہوئے۔اگر انہوں نے سچ بولا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ قرار داد سامنے آئی تو وہ ہال میں سے نکل کر باہر چلے گئے ہوں گے اسی وجہ سے بعض کے نزدیک ۱۹ اور بعض کے نزدیک ۱۲ آدمی قرار داد پاس کرنے والے تھے۔جنہیں آزاد کشمیر کی حکومت کی اسمبلی قرار دے کر ہمارے ملک پاکستان میں شور مچانے والوں نے شور مچادیا۔یہ اس اسمبلی کی اصلیت ہے۔اگر ۹ یا ۱۲ اشخاص اس قسم کی کوئی قرار داد پاس کر دیں تو اول تو ہمیں امید ہے کہ یہ قرار داد منظور نہیں کی جائے گی کیونکہ ہمارے ملک میں (اور خود آزاد کشمیر میں بھی ) کہیں نہ کہیں تو عقل و فراست موجود ہے گو بعض جگہوں پر ہمیں اس کا فقدان بھی نظر آتا ہے لیکن گلی فقدان تو نہیں بڑے سمجھ دار لوگ بھی ہیں۔ہمارے صدر مملکت کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عقل و فراست عطا فرمائی ہے اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو بڑے اچھے ہیں، شریف ہیں، نیک دل ہیں، انصاف پسند ہیں تاہم اس اچھے گروہ میں کچھ لوگ بڑے دلیر اور جری ہیں اور کچھ انتہائی طور پر بزدل ہیں لیکن وہ بھی فطرتی طور پر شریف ہیں کیونکہ بزدلی شرافت کے بعض مظاہروں میں روک ہوتی ہے لیکن وہ شرافت کے خلاف تو نہیں ہوتی۔پس اگر نو یا بارہ آدمیوں نے اس قسم کی قرارداد پاس کر دی تو خدا کی قائم کردہ جماعت پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟ اس کے نتیجہ میں جو خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں وہ یہ نہیں کہ جماعت احمد یہ غیر مسلم بن جائے گی۔جس جماعت کو اللہ تعالیٰ مسلمان کہے اُسے کوئی نا سمجھ انسان غیر مسلم قرار دے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں۔ہمیں فکر ہے تو اس بات کی کہ اگر یہ خرابی خدانخواستہ انتہا تک پہنچ گئی تو اس قسم کے فتنہ و فساد کے نتیجہ میں پاکستان قائم نہیں رہے گا۔اس لئے ہماری دعائیں ہیں ہماری کوششیں ہیں اور ہمارے اندر حُب الوطنی کا یہ جذبہ موجزن ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فتنہ نہ اُٹھے کہ جس سے خود پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔آخر فتنہ وفساد یہی ہے نا