خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 143
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۳ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء یہ کوئی ایسی خفیہ بات نہیں رہی کہ جس کے متعلق کچھ کہ کر یا جس پر کوئی صحیح اور جائز تنقید کر کے کسی قسم کے فتنے کے پیدا کرنے کا سوال ہو۔جب سب کچھ قوم کے سامنے آچکا ہے تو اس کے متعلق بولنا چاہیے تا کہ فتنے کو دبایا جا سکے۔غرض جس احمدی دوست نے بھی یہ خبر پڑھی اس کی طبیعت میں شدید غم وغصہ پیدا ہوا۔چنانچہ دوستوں نے مجھے فون کئے ، میرے پاس آدمی بھجوائے ، خطوط آئے ، تاریں آئیں۔احباب جماعت نے خطوط اور تاروں وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر خدمت کے لیے پیش کیا کہ اگر قربانی کی ضرورت ہو تو ہم قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔چنانچہ میں نے تمام دوستوں کو جنہوں نے خطوط اور تاروں کے ذریعہ مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا اور اُن کو بھی جو میرے پاس آئے یہی سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل وفر است عطا فرمائی ہے اور عزت واحترام کا مقام بخشا ہے۔پس عقل و فراست اور عزت و احترام کا یہ مقام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں مرحمت فرمایا ہے یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم پورے اور صحیح حالات کا علم حاصل کیسے بغیر منہ سے کچھ نہ کہیں۔اس قرارداد کے الفاظ کیا ہیں؟ قرارداد پاس کرنے والوں میں کون کون شامل ہے؟ یہ خبر اخباروں میں نمایاں طور پر کیوں آئی سوائے پاکستان ٹائمز کے جس نے پانچویں صفحے پر شائع کی لیکن چوکھٹہ بنا کر گویا اس نے بھی اس کو نمایاں کر دیا۔جب تک اس کے متعلق ہمیں علی وجہ البصیرت کوئی علم نہ ہو اس وقت تک ہم اس پر کوئی تنقید نہیں کر سکتے۔میں نے دوستوں سے کہا ہم حقیقت حال کا پتہ کریں گے اور پھر اس کے متعلق بات کریں گے۔چنانچہ یکم مئی کو مشرق نے (جس نے ۱/۳۰ پریل کو خبر شائع نہیں کی تھی ) صحیح خبر شائع کی اور وہ یہ تھی کہ آزاد کشمیر اسمبلی نے اپنے میر پور کے اجلاس میں یہ قرارداد پاس کی ہے کہ ہم آزاد کشمیر کی حکومت کے پاس سفارش کرتے ہیں کہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دے یعنی یہ کوئی ایسا بل پاس نہیں ہوا کہ اقلیت قرار دیا جاتا ہے بلکہ یہ ایک سفارش ہے جو آزاد کشمیر کی حکومت سے کی گئی ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور اُن کی مذہبی تبلیغ پر پابندی لگائی جائے اور احمدی غیر مسلم اقلیت کی صورت میں نام رجسٹر کروائیں۔