خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 124 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 124

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۴ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء ایک بنیادی حکم دے رکھا ہے تو نے اس کو نہیں بھولنا۔ہم اللہ کی توفیق سے اور اسی کے فضل سے ہمیشہ ہی محسن سلوک کرتے ہیں۔ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتے ہیں جو ساری عمر ہمیں گالیاں دیتے رہتے ہیں، چنانچہ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہماری سرشت ہی کچھ ایسی بنائی ہے کہ اگر کوئی شخص قادیان میں آئے اور صبح و شام ہمیں گالیاں دیتا ر ہے تب بھی ہمارے چہرہ پر کدورت کے آثار نہیں پیدا ہوں گے۔ظاہر ہے جس شخص نے خدا تعالیٰ کے لئے کام کرنا ہوتا ہے، بندوں کا رد عمل اس کے کام میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔مگر جس شخص نے خدا کے لئے کام نہیں کرنا ہوتا وہ تو آج بھی مارا گیا اور کل بھی مارا گیا۔ایسا شخص تو پھر ظلمات کی دنیا میں رہنے والا ٹھہرا۔پس جماعتِ احمدیہ کے ہر فرد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم نے کسی سے حسن سلوک کیا اور اس نے ہمارے ساتھ دشمنی کی۔اگر ہم نے کسی سے محبت و پیار کا سلوک کیا اور اس نے ہم سے نفرت کا اظہار کیا۔اگر ہم نے کسی سے ہمدردی کے تعلقات قائم کرنا چاہے اور اس نے دشمنی کے طریقوں کو اختیار کیا تو اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے اس بنیادی حکم میں کہ میرے بندوں سے پیار کرو، پیار کرو اور پیار کرو اور میرے لئے ان کے دلوں کو جیتو۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔یہ حکم تو اپنی جگہ پر قائم ہے۔یوں بھی اس دنیا میں آج ایک بات ہوتی ہے کل دوسری رونما ہو جاتی ہے زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اگر کوئی شخص ہمارے خلاف حرکت کرتا ہے تو ہمارے دل میں اس کے لئے رحم پیدا ہوتا ہے اور دل سے اس کے لئے دعائیں نکلتی ہیں۔ہمیں اپنی کوئی فکر نہیں ہوتی کیونکہ خدائے قادر و توانا ہمارا مونس و مددگار ہے۔بڑا عجیب واقعہ ہے۔کہنے والے نے یہ کہا خانہ کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔میرے تو اونٹ گم ہو گئے ہیں۔مجھے تو ان کی تلاش ہے۔اس میں ایک بنیادی حقیقت بیان کی گئی ہے۔چار پانچ دن ہوئے کسی نے اس قسم کی کوئی بات مجھ سے کی ( گوانسان پریشان تو ہوتا ہے لیکن کسی احمدی کو اپنا مقام نہیں چھوڑ نا چاہیے ) چنانچہ میں نے ہنس کر کہا تعبیر رویا میں خانہ کعبہ کی تعبیر امام وقت ہے۔میں نے کہا خانہ کعبہ کا مالک خانہ کعبہ کی حفاظت کے سامان آپ کرے گا۔ہمیں تو ان اونٹوں کی فکر ہے۔ہمیں تو اس