خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 114

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء دوسرے اور بنیادی تقاضے پورے نہیں کئے اس لئے کہ تم نے جو مشورہ کیا تھا وہ معروف نہیں تھا، وہ اچھا نہیں تھا ، وہ بھلائی کا نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں تھا۔۔۔بنی نوع انسان کے اس حصہ کو جس کا اُمت محمدیہ سے تعلق نہیں یہ یاد دلا کر کتنا احسان کیا کہ دیکھو! جو چیز عقلاً اور فطرتاً معروف ہے اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو ایسا مشورہ فساد، دُکھ اور تکلیف کا موجب ہوگا اور اُس حد تک تم عقلاً بھی خالق فطرتِ انسانی کی گرفت میں ہو گے اور اس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی۔پھر فرمایا اور اصلاح بَيْنَ النَّاسِ اگر تم کہو معاشرہ کی اصلاح مد نظر ہے تو اس میں بھی دونوں پہلو پائے جاتے ہیں میں ان کو مختصر بیان کر دیتا ہوں۔ایک دنیوی لحاظ سے اصلاح بَيْنَ النَّاسِ ہے اور دوسری شرعی لحاظ سے ہے ویسے تو اسلام دین فطرت ہے۔اس کے سارے احکام فطرت کے کسی نہ کسی پہلو کو نمایاں کرتے اور اسے مقناطیس کی طرح اپنی طرف جذب کرتے ہیں مگر جس شخص کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے اس کی حالت اس مقناطیسی لوہے کی سی ہے جو خراب ہو جا تا ہے اور اس کے اندر جذب کی طاقت نہیں رہتی۔پس یہ تو درست ہے لیکن بعض ایسے مشورے ہوتے ہیں جن کا لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ انسانی فطرت اور اسلامی شریعت کے مطالبہ سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں کیونکہ اُن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر جہاں تک دنیوی لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کا تعلق ہے کوئی انسانی عقل مثلاً نا انصافی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی۔اس کے لئے ایک مسلمان ہونا یا اس کے لئے عالم قرآن ہونا یا اس کے لئے تفقہ فی الدین ہونا ضروری نہیں۔ہر وہ انسان جو فطرتِ صحیحہ پر قائم ہے وہ نا انصافی کو اور حق تلفی کو ٹھیک نہیں سمجھتا۔یہاں تک کہ ایک چور جو اپنے ایک بد عمل میں اپنی فطرت کو بھول چکا ہوتا ہے اس کی چوری کا مال بھی اگر کوئی دوسرا آدمی اٹھالے تو وہ شور مچا دیتا ہے کہ یہ کیا نا انصافی ہے کہ کوئی میری چیزیں اٹھا کر لے گیا حالانکہ اگر یہ نا انصافی ہے تو خود اس کا دوسرے کی چیز کو چرا لینا اور چھینا بدرجہ اولی نا انصافی ہے۔لیکن ایک پہلو سے چونکہ اس کا نفس اور اس کا وجود ( جس میں عقل سمجھ اور فراست سب کچھ آجاتا ہے ) اتنا کمزور ہے کہ وہ دوسرے شخص کے مال کو