خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 113

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۳ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء لوگ اُمت محمدیہ سے وابستہ نہیں قرآن کریم نے اُن کو یہ کہا کہ دیکھو! قرآنِ کریم پر تو تم ایمان نہیں لاتے اور اس کو واجب العمل شریعت نہیں سمجھتے لیکن ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ بے شک شریعتِ اسلامیہ پر تمہارا ایمان نہیں ہے لیکن تم خود کو چونکہ صاحب عقل و فراست سمجھتے ہو اس لئے ہم تمہیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جو چیز انسانی عقل اور فراست اور فطرتِ صحیحہ کے نزدیک معروف نہیں اس کے متعلق اگر تم مشورہ کرو گے تو دنیا میں فساد پیدا ہوگا اور اس قسم کے مشوروں میں کوئی خیر نہیں ہوگی اور اگر تم اپنی عقل کے مطابق اپنی فطرت صحیحہ کے مطابق جس چیز کو اچھا اور حسین سمجھتے ہو اور اُسے بھلا پاتے ہو اگر اُسے قائم کرنے اور اس کے پھیلانے کے لئے تم باہمی مشورے کرو گے تو خود تمہاری عقل یہ کہے گی کہ اچھی بات ہے۔ایسے ہی مشورے ہونے چائیں۔اس لئے اگر چہ تم مسلمان نہیں ہو تب بھی ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ عقلاً معروف کے مطابق مشورے کرو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل عطا فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اُس نے ہر ایک شخص کو عقل دی ہے اور فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے وہی تمہیں یہ بھی کہتا ہے کہ گو آج تم شریعت اسلامیہ سے غافل اور اس کے مضامین سے جاہل ہو یہ تو درست ہے لیکن تم نے اپنی فطرت صحیحہ کو تو خیر بادنہیں کہا وہ تو تمہارے وجود کا تمہاری شخصیت کا ایک حصہ ہے۔اس لئے ہم تمہیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ تمہارے آپس کے مشورے معروف طریق پر ہونے چاہئیں۔پچھلے دنوں کا واقعہ ہے آپ میں سے اکثر دوستوں کو یاد ہوگا کہ ہزاروں میل کا چکر کاٹ کر ایک قوم پاکستانی ساحلوں کے قریب مچھلیاں پکڑنے کے لئے آگئی۔اب انسانی عقل اس بات کو معروف نہیں سمجھے گی کہ کوئی اتنی دور سے آکر پاکستانی ساحلوں کے نزدیک مچھلیاں پکڑ کر لے جائے جو پاکستان کے ماہی گیروں کی غذا اور ان کی اقتصادی خوشحالی کا ذریعہ ہے۔کوئی انسانی فطرت اور کوئی انسانی عقل اس کو صحیح نہیں سمجھے گی مگر جنہوں نے مچھلیاں پکڑنے والے سمندری جہاز بھیجنے کی تجویز کی اور سر جوڑ کر مشورہ کیا اور اندازے لگائے کہ اتنے لمبے سفر اور خرچ کے باوجود وہاں سے ہمیں اتنی مچھلی ملے گی اور وہ ہمیں مہنگی نہیں پڑے گی۔ایسے لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے عقل کے ایک تقاضے کو پورا کیا اور وہ یہ کہ تم نے مشورہ کیا لیکن تم نے عقل کے