خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 81
خطبات ناصر جلد پنجم ΔΙ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء لاکھ روپیہ خرچ کیا ہے اور یہ کوئی دولت تو نہیں ہے جو آپ نے خدا کی راہ میں لگا دی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ ابھی میں نے ان کو تھوڑا دیا ہے اور یہ اس تھوڑے میں سے کچھ حصہ میرے لئے نکالتے اور اسے میری راہ میں خرچ کر رہے ہیں اس لئے میں ان کو جزا دوں گا اور ان کے مالوں میں برکت ڈالوں گا۔مال کی زیادتی کی شکل میں بھی اور مال کے بہترین نتائج نکلنے کی شکل میں بھی اور اصل برکت یہی ہے۔آپ ایک پیسہ خرچ کرتے ہیں مگر ہزار روپے خرچ کر کے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ آپ کے ایک پیسے سے نکل آتا ہے۔۹۹۹ روپے ۹۹ پیسے کہاں سے آتے ہیں؟ وہ آسمان سے برکت کی شکل میں آتے ہیں۔پھر اسی طرح ڈاکٹر آئے اور بہت ڈاکٹر آئے مجھے ڈاکٹروں کے آنے کی بہت زیادہ خوشی دو وجہ سے ہوئی ایک تو یہ کہ میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ صوبہ سرحد کے ہمارے احمدی دوست جانی قربانیوں کے پیش کرنے میں پیچھے ہیں لیکن اس تحریک میں صوبہ سرحد نے حصہ رسدی کے طور پر بشاشت کے ساتھ شمولیت کی۔اُن کی چھپی ہوئی ایمانی کیفیت کا اظہار میرے لئے خوشی کا باعث تھا دوسرے یہ کہ اس تحریک میں نوجوان نسل نے بہت اچھا نمونہ دکھایا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔چنانچہ وہ نسل جو عام طور پر مغربیت زدہ کہلاتی ہے لیکن جہاں تک نوجوان احمدی نسل کا تعلق ہے یہ دوسروں سے بدرجہا بہتر ہے مثلاً میں نے جب ڈاکٹروں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی تو ہمارے چند نوجوان ڈاکٹر جو ڈاکٹری کے آخری سال میں پڑھ رہے تھے انہوں نے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر اس خدمت کے لئے پیش کیا ان میں سے ایک نو جوان ڈاکٹر وہ بھی تھا جو لاہور کے علاقہ میں یونیورسٹی بھر میں اول آیا تھا۔لیکن جس وقت اُن کا نتیجہ نکلا بھارت کے ساتھ ہماری جنگ شروع ہو گئی اور ہمارے ملک کو ڈاکٹروں کی ضرورت پڑ گئی تو ہمارے ان ڈاکٹروں کو بھی انٹرویو کے لئے بلالیا گیا وہ میرے پاس آئے کہ ہم نے وقف کیا ہوا ہے لیکن حکومت کی طرف سے یہ چٹھی آگئی ہے۔میں نے اُن کو سمجھایا کہ بات یہ ہے کہ جہاں تک اپنے ملک کا سوال ہے اس کی خدمت کو بہر حال مقدم رکھا جائے گا۔اگر ہمارے ملک کو آپ کی خدمت کی ضرورت ہے تو جب تک ملک کو آپ کی ضرورت رہے آپ اپنے ملک کی خدمت کرتے رہیں۔مگر انٹرویو بورڈ سے صاف صاف کہہ دیں اس میں گھبرانے کی یا جھجکنے کی یا