خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 62

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۲ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء غرض جب ہم کہتے ہیں کہ یہ عمل کی دنیا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ اس عمل کی دنیا ہے جسے ہم امتحان کہتے ہیں۔یعنی یہ آزمائش کی دنیا ہے۔اس آزمائش اور امتحان کی دُنیا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اگر شیطان سے تمہیں کوڑے بھی لگواؤں تو پھر بھی تم نے میری حمد کرنی ہے اگر تم اس صورت میں بھی میری حمد نہیں کرو گے تب بھی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور دوسری طرف اُخروی زندگی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہاں لغویات بھی تمہارے کان میں نہیں پڑیں گی گویا وہ دنیا ہی اور ہوگی لیکن وہاں بھی ایسا عمل تو بہر حال جاری رہے گا جس کو امتحان نہیں کہا جاسکتا۔اب مثلاً ایک آزمائش بچے کی یہ ہوتی ہے ( اور یہ آزمائش ماں باپ لیتے ہیں مگر جہاں تک اس امتحان یا آزمائش کا سوال ہے) ماں باپ نے اپنے ذہن میں یا اعلانیہ اظہار کیا ہوتا ہے کہ اگر تو فرسٹ ڈویژن میں پاس ہو گیا تو ہم تجھے یہ تحفہ دیں گے۔یہ بھی آخر ایک عمل اور اس کا نتیجہ ہے نا۔انہوں نے اپنے بچے کا امتحان لیا یا انہوں نے امتحان کے ساتھ خود کو وابستہ کر دیا اور ایک وہ پیار ہے جو ایک، دو، تین سال کا چھوٹا بچہ ماں کی گود میں پاتا ہے وہ اپنی ماں کی گردن میں باہیں ڈال کر اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اُس وقت ماں اسے جو پیار دے رہی ہوتی ہے وہ اگر چہ عمل کا جواب تو ہے مگر کسی امتحانی عمل کا نتیجہ نہیں اور عمل اس لحاظ سے ہے کہ بچہ آتا ہے، ماں کی گردن میں باہیں ڈالتا ہے اور پھر بڑے پیار کے ساتھ اپنے کلے کو ماں کے کلے کے ساتھ لگا دیتا ہے۔ماں اس سے پیار کرتی ہے چنانچہ اسی طرح اس انگلی اُخروی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا پیار عمل کے ساتھ تو وابستہ ہے لیکن ایسے عمل کے ساتھ وابستہ نہیں ہے جسے ہم امتحان یا آزمائش کہ سکیں۔مگر یہاں اس دنیا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں بأْسَاء اور ضَر آم دیکھنی پڑیں گی یا تم ایسے الفاظ سنو گے جنہیں تم برداشت نہیں کر سکو گے لیکن میری خاطر تمہیں برداشت کرنے پڑیں گے پس امتحان اور آزمائش کے لحاظ سے انسانی زندگی پر مختلف دور آتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانی جد و جہد کو مختلف ادوار میں تقسیم کر دیا ہے۔چنانچہ اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے منصوبے بنادیئے ہیں۔بعض دینی منصوبے ایسے ہیں