خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 55
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء دینے کی توفیق عطا فرما۔جس وقت تیری نگاہ میں کرب عظیم کے حالات پیدا ہو جائیں اور ہر طرف سے نا امیدی نظر آنے لگے تو اس وقت بھی ہم تیرے باوفا بندے ثابت ہوں۔ہمارے دلوں میں تجھ سے بے وفائی کا خیال پیدا نہ ہو۔وہ وقت جب تیری اہل تقدیر تیرا اٹل قانون کہتا ہے کہ تیری مدد آئے گی وہ وقت ہمیں نصیب ہوتا کہ ہم تیری مدد و نصرت کے سایہ میں اس دُنیا میں بھی اور اُس دُنیا میں بھی اپنی زندگی کے لمحات گزارنے والے ہوں اور وہ قوم یا شخص جو خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ہے وہ ناکام ہو خواہ وہ اس رنگ میں ہلاک ہو کہ وہ جسمانی طور پر تباہ ہو جائے یا اس رنگ میں ناکام ہو کہ اس کے سارے کے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں اور پھر وہ دن بھی آجائے کہ وہ دل جو بغض محمد سے بھرا ہوا تھا وہ عشق محمد سے لبریز ہو جائے۔یہ ہمارے لئے اور بھی زیادہ خوشی کی بات ہے۔پس یہ کبھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ صبح ۸ بجے یا دس بجے یا بارہ بجے یا دو بجے یا تین بجے اللہ تعالیٰ کی مدد تمہیں مل جائے گی۔در آنحالیکہ ابھی تمہارے امتحان مکمل نہیں ہوئے۔ابھی تمہاری آزمائشوں کے دن نہیں گزرے۔ابھی تم نے خدا کی راہ میں انتہائی قربانیاں نہیں دی ہوں گی۔یہ نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ اس کی اب امید ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔قرآن کریم اس بات کی علی الا علان منادی کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اسی وقت ملتی ہے جب تم مٹی نصر اللہ کی کیفیت پیدا ہونے تک قربانی پر قربانی پیش کرتے چلے جاؤ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو نہ چھوڑو، پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی۔یہ ویسی ہی مدد ہو گی جو آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کو ملی تھی جس کی چمک آج بھی اپنوں اور غیروں کی آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔پس یہ وہ مدد ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے اور یہ وہ طریق ہے جو اس مدد کے حصول کے لئے ہمیں بتایا گیا ہے اگر یہ طریق ہم اختیار نہیں کریں گے تو وہ مدد ہمیں نہیں ملے گی۔پھر خدا تعالیٰ پر کیا شکوہ! کیونکہ جب تم نے سات بجے کے بعد یا دس بجے کے بعد جانی یا جسمانی قربانی دینے سے انکار کر دیا تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کے کیسے امیدوار بن بیٹھے۔یہ چیز قرآن کریم کی ہدایت اور روشنی سے باہر ہے۔قرآن کریم میں ہمیں یہ کہیں نظر نہیں آتا کہ قربانی دیئے بغیر اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ دیا گیا ہو۔