خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 53

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۳ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء بات لازمی ہے کہ کافر کے ساتھ بھی یہ وعدہ ہو گا کہ عصر کے وقت تک اُس پر الہی گرفت نہیں ہوگی اور اصلاح کے لئے اسے مہلت دی جائے گی تبھی وہ اپنا کام کر سکتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا نَعتُ لَهُمْ عَذَا ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے اور یہ وہی وقت ہے جو ایک مسلمان کا اور ایک کافر کا اکٹھا ہو جاتا ہے۔جس وقت مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے، کافر کی ہلاکت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے تمہارا جلدی کرنا ، یا قبل از وقت گھبرا جانا اور دعائیں کرنا کہ اے خدا! ہم تکلیفیں برداشت نہیں کر سکتے۔تو ہماری مدد فرما۔یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمُ کہ ان کے خلاف جلدی ہلاکت کی دعائیں کر نا غلط بات ہے۔یہ نہیں ہو سکتا جس وقت تمہاری آزمائش پوری ہو جائے گی امتحان میں پورے اُتر و گے۔ان کی ڈھیل کا وقت بھی پورا ہو جائے گا۔ایک ہی وقت میں تمہاری مدداوران کی ہلاکت کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔ط پس فَلا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں جلدی نہیں چلے گی اللہ تعالیٰ کی مدد کے آنے تک تمہیں صبر و ثبات کا مظاہرہ کرنا ہو گا چنانچہ ساری اسلامی تاریخ دیکھ لیں۔اُس وقت بھی جب مسلمان اپنے ایمان کی رفعتوں پر پہنچا ہوا تھا اور اس وقت بھی جب مسلمان اپنے ایمان میں نسبتاً بہت کمزور ہو چکا تھا۔ہر دوصورتوں میں مسلمان اگر عصر تک قربانیاں دیتا رہا تو کامیاب ہوتارہا اور جب بھی اس نے صبح سات بجے یا آٹھ بجے یا نو بجے یا دس بجے یا بارہ بجے یا دو بجے خدا تعالیٰ سے یہ کہا کہ اے خدا! تو نے ہماری مدد کرنے میں جلدی نہیں کی اب ہم پیٹھ دکھا رہے ہیں تو وہ ہلاک ہو گئے۔جو جنگ اس وقت ہندوستان کے خلاف لڑی گئی ہے میرا اندازہ ہے کہ صبح سات بجے ہمارے فوجیوں سے ظالم حکومت نے جنگ بند کروادی۔ہمارا سپاہی بڑی بے جگری سے لڑا ہے۔اُس نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا ہے کہ اُس پر بزدلی یا نا اہلی کا دھبہ نہیں آتا۔اس لئے میں اُن کی بات نہیں کر رہا لیکن جن کا بھی قصور تھا اور جہاں بھی وہ فتنہ تھا اس کی وجہ سے ہتھیار ڈالے گئے تو عصر کا وقت نہیں تھا ، ظہر کا وقت بھی نہیں تھا۔بارہ بھی نہیں بجے تھے۔دس بجے کا بھی وقت نہیں