خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 580
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۰ خطبه جمعه ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء احمدی مسلمان کو نہیں کرنا چاہیے جو اللہ کی محبوب اجتماعی ہیئت کذائی پر برے رنگ میں اثر انداز ہو۔ہر کام ایسا ہونا چاہیے۔جو خدا تعالیٰ کی محبت کو زیادہ جذب کرنے والا اور اس اتحاد اور الفت اور اخوت کو زیادہ مضبوط بنانے والا ہو اور اس حقیقت کے باوجود کہ سب ایک جان ہو گئے یہ بھی ضروری ہے کہ جذبہ مسابقت پایا جائے۔وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيهَا ہر ایک کا ایک نہ ایک صحیح نظر ہوتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ فرمایا تم نیکیاں کرنے میں ایک دوسرے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔اب جو کوشش خیرات کرنے کی نیکیاں کرنے کی بھلائی کرنے کی دکھ دور کرنے کی خیر پہنچانے کی سکھ پہنچانے کی ہوگی۔یہ نیکیوں کی جو کوشش ہے اس سے جو بنیان مرصوص ہے اس پر مخالف اثر نہیں پڑتا بلکہ موافق اثر پڑتا ہے اس سے اتحاد زیادہ مضبوط ہوتا ہے کمزور نہیں ہوتا۔لیکن مسابقت ضروری ہے کیونکہ مسابقت کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔اس بنیاد پر مسابقت ہے کہ كَانَّهُم بُنْيَان مرصوص (الصف: ۵) اس بنیاد پر مسابقت ہے کہ اُلفت و اخوت اسلامی قائم رہے اور مضبوط تر ہوتی چلی جائے اور یہ نیکیوں کی مسابقت ہے۔پہلی چیز کو بھلا کر اگر آپ مسابقت کریں گے۔اس کی دنیوی مثالیں میں دیتا ہوں جس سے بچے سمجھ جائیں گے۔جیسے یہ ہاکی کے میچ میں مقابلہ ہے کہ کون جیتا ہے۔لیکن اگر اتحا دسامنے نہیں تو وہ ہا کی سٹک جو بنانے والوں نے گیند کو مارنے کے لئے بنائی ہے وہ سروں پر پڑے گی اور سر پھوٹ جائیں گے ابھی چند دنوں کی بات ہے کسی نے مجھے بتایا کہ پاکستانی طالبات کا لائلپور میں ایک میچ ہو رہا تھا تو ایک دوسرے پر گملے پھینک مارے۔اب یہ جو Net ball ( نیٹ بال) ہے اس کا گملوں سے کیا تعلق اور پھٹول سے کیا واسطہ مقابلہ اور مسابقت تو یہ ہے کہ قوم اجتماعی رنگ میں اچھی کھیل کھیلے اور نتیجہ نکل آیا یہ کہ گملے ٹوٹے سر پھوٹے اور پھول خراب ہو گئے جو پھولوں میں حسنِ الہی ہے اس کو نقصان پہنچ گیا۔پس یہ تو ایک ایسی مسابقت ہے جس میں الفت واخوت کا خیال نہیں رکھا گیا۔تنزل کرنے والی قومیں یا جنہیں تنزل کی دلدل سے باہر نکلنے کی سوجھ بوجھ نہیں ہے۔وہ اس قسم کی مسابقت کیا کرتی ہیں اور جنہیں ترقی کرنے کے راز اور گر آتے ہیں وہ ایسی