خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 507
خطبات ناصر جلد چہارم میں دھن کہا گیا ہے۔فرمایا:۔۵۰۷ خطبہ جمعہ ۱۰ نومبر ۱۹۷۲ء وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَومِ دشمن جب بیچ کر ادھر اُدھر ہو جاتا ہے تو اس کی تلاش میں سستی نہ دکھاؤ۔بلکہ اس کے ساتھ کانٹیکٹ قائم رکھو یہ نہ سمجھو کہ تم تھوڑے ہو۔اسلام کی پہلی جنگ بدر میں کچھ صحابہ شہید ہو گئے تھے۔وہ تو پہلے ہی تھوڑے سے تھے مگر کیا ان میں کوئی کمزوری پیدا ہو گئی تھی نہیں ہر گز نہیں۔اسی طرح ہم پہلے بھی کمزور تھے اب بھی کمزور ہیں جہاں تک ہمارا تعلق ہے لیکن پہلے بھی طاقتور تھے اور اب بھی طاقتور ہیں جہاں تک ہمارے اللہ اور اس کے فضل کا تعلق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔اس کی طاقت اور قدرت میں تو کوئی فرق نہیں آیا اور نہ آ سکتا ہے۔اسلامی تاریخ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حسین واقعات سے بھری پڑی ہے۔ہماری تاریخ میں ایسے حسین نظارے دکھائی دیتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ کسری ایران کے خلاف جنگ میں حضرت خالد بن ولید کے پاس غالباً چودہ ہزار فوج تھی۔وہ اتنی تھوڑی سی فوج کے ساتھ کسری کے خلاف مدافعانہ جنگ لڑنے کے لئے ایران کی حدود میں داخل ہوئے تھے جہاں انہیں ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ لڑنی پڑی۔چنانچہ وہ کسری کے خلاف سات آٹھ جنگیں لڑ چکے تھے کہ خلافت کی طرف سے انہیں حکم ملا کہ وہ شام کی طرف چلے جائیں کیونکہ قیصر روم کا مقابلہ زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا تھا اور اس محاذ پر فوج کی کمی بھی تھی۔بہر حال یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اندازہ تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیتا تھا۔چنانچہ ایران میں کسری کے خلاف حضرت خالد نے سات آٹھ جنگیں لڑی تھیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ان جنگوں کے دوران میں ہر جنگ کے موقع پر کسرٹی کی ایک تازہ دم فوج مقابلے پر آئی جس کی تعداد ایک دو جنگوں میں تو چالیس ہزار بتائی جاتی ہے اور پانچ چھ جنگوں میں ساٹھ ستر ہزار فوج مقابلے پر ہوتی تھی۔اس عرصہ میں حضرت خالد بن ولید کی فوج کو سوائے ایک آدمی کی کمک کے کوئی کمک نہیں ملی یعنی صرف ایک فرد واحد کمک کے طور پر ان کے پاس آیا گویا ساٹھ ستر ہزار کی ایرانی فوج کے مقابلے میں چودہ ہزار مسلمان لڑتے اور ان پر کامیابی حاصل کرتے رہے۔