خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 503
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۰۳ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء کا تباہ ہو جانا کیا جماعت احمدیہ کو نا کام کر دے گا ؟ جو آدمی ایسا سمجھتا ہے وہ نادان ہے اور جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔ہمیں اس پر رحم آتا ہے۔اُس پر غصہ نہیں آتا اور نہ آنا چاہیے۔دوستوں کو علم ہو چکا ہوگا کہ ایبٹ آباد میں جماعت کی جو کوٹھیاں تھیں۔کچھ بن چکی تھیں اور کچھ بن رہی تھیں۔جن میں ایک دو میری ذاتی بھی تھیں۔پچھلے مہینے ان کو جلانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں (ہمارا اندازہ ہے کہ) ہیں پچیس ہزار روپے کا نقصان ہوا ہے۔کئی دوستوں نے مجھے بڑے غصے کے خط لکھے ہیں۔میں نے ان کو یہی سمجھایا ہے کہ دیکھو! مالی لحاظ سے ہیں پچیس ہزار روپے کا نقصان پہنچا کر اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو نا کام اور ہلاک کر دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔اب تو خدا کے فضل سے وہ وقت آگیا ہے کہ جماعت کے اندر ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی ایک فرد کی ایسی پچاس کو ٹھیاں جلا دی جائیں تو اس کو محسوس بھی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے خزانے تو بھرے ہوئے ہیں۔اس نے جماعت احمدیہ کو مال بھی عطا فرمایا ہے۔پس ایک ایسا آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کی توفیق عطا کی ہو اُس کے پچاسویں حصے کو نقصان پہنچا کر اگر لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ جماعت احمدیہ کو نا کام کر دیں گے تو ان کی حالت واقعی قابلِ رحم ہے۔غرض دوستوں کو یہ امر یا د رکھنا چاہیے کہ لِمَا اَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ کی رو سے یہ چیزیں ہمارے ساتھ بھی لگی ہوئی ہیں۔الہی سلسلوں کے ساتھ مخالفین کا یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں۔تاہم ایسے موقعہ پر خوف اس بات کا نہیں ہوا کرتا کہ مخالفین کی یہ حرکتیں جماعت کو نا کام کر دیں گی بلکہ یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں جماعت کا رد عمل اللہ کی رضا اور اس کی منشاء کے خلاف ظاہر نہ ہو۔میں نے شروع میں جو دو آیات تلاوت کی ہیں ان میں سے پہلی آیت میں تین قسم کے خوف اور دوسری آیت میں ان کے علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمہیں دُکھ اور تکلیف پہنچے گی مگر تمہارا یہ کام ہے کہ تم اپنے اندر وھن ، ضعف اور استکانت پیدا نہ ہونے دو۔میں سمجھتا ہوں یہ آیت ایک لحاظ سے ہمارے لئے خوشخبری کا باعث بھی ہے کہ ہمیں مالی نقصان بھی پہنچایا جائے گا ، جذباتی اور روحانی نقصان بھی پہنچانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔لیکن یہ نقصان ہمیں اس لئے نہیں پہنچایا جائے گا کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے ہمیں